المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ قتل علي رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
قَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَعْيَنَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مِنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : أَتَانِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَقَدْ أَدْخَلْتُ رِجْلِي فِي الْغَرْزِ ، فَقَالَ لِي : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ فَقُلْتُ : الْعِرَاقَ ، فَقَالَ : أَمَا إِنَّكَ إِنْ جِئْتَهَا لَيُصِيبَنَّكَ بِهَا ذُبَابُ السَّيْفِ ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَايْمُ اللهِ لَقَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَهُ يَقُولُهُ ، فَسَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : فَعَجِبْتُ مِنْهُ ، وَقُلْتُ : رَجُلٌ مُحَارِبٌ يُحَدِّثُ عَنْ نَفْسِهِ بِمِثْلِ هَذَا .
4443 \ 2 - وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا .
4443 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ .
4443 \ 4 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ قَالَا : أَنَا سُفْيَانُ بِهِ ، وَقَالَ : لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ إِلَّا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي حَرْبٍ ، وَلَا عَنْهُ إِلَّا ابْنُ عُيَيْنَةَ .
وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالْحَاكِمُ .سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ جب) میں نے اپنا پاؤں رکاب میں ڈال رکھا تھا تو میرے پاس سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ آئے اور مجھ سے دریافت کیا: ”آپ کا کہاں جانے کا ارادہ ہے؟“ میں نے جواب دیا: ”عراق جانے کا۔“ انہوں نے کہا: ”دیکھیے! اگر آپ وہاں گئے تو یقیناً وہاں آپ کو تلوار کی کاٹ (ضرب) پہنچے گی۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے ان سے پہلے رسول اللہ ﷺ کو بھی یہی بات فرماتے ہوئے سنا تھا۔“ (راوی ابوحرب کہتے ہیں کہ) میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے اس بات پر سخت تعجب ہوا اور میں نے (دل میں) کہا: ”ایک جنگجو شخص اپنے ہی متعلق ایسی بات بیان کر رہا ہے!“
اس حدیث کو امام حمیدی، ابن ابی عمر، ابویعلی اور بزار نے سفیان کے واسطے سے روایت کیا ہے، امام بزار نے صراحت کی ہے کہ ہمارے علم کے مطابق اسے عبدالملک نے ابوحرب سے اور ان سے صرف ابن عیینہ نے روایت کیا ہے، نیز امام ابن حبان اور امام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔