المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ مِنْ قتل الحرورية باب: حروریہ کو قتل کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا عِكْرِمَةُ - هُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو مَعَنَا ، فَإِذَا رَجَعَ وَحَطَّ عَنْ رَاحِلَتِهِ ، عَمَدَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَجَعَلَ يُصَلِّي فِيهِ ، فَيُطِيلُ الصَّلَاةَ ، حَتَّى جَعَلَ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرَوْنَ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَيْهِمْ ، فَمَرَّ يَوْمًا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فِي أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ لَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : هُوَ ذَاكَ ، فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيْهِ ، وَإِمَّا جَاءَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ لَسَفْعَةً مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَلَمَّا وَقَفَ عَلَى الْمَجْلِسِ ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْتَ فِي نَفْسِكَ حِينَ وَقَفْتَ : لَيْسَ فِي الْقَوْمِ خَيْرٌ مِنِّي ؟ قَالَ : نَعَمْ ، ثُمَّ انْصَرَفَ . فَأَتَى نَاحِيَةَ الْمَسْجِدِ ، فَخَطَّ خِطَّةً بِرِجْلِهِ ، ثُمَّ صَفَّ كَعْبَيْهِ ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي .... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
( 213 ) وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي كِتَابِ الْقَدَرِ مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
4442 \ 2 - قَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْكُوفِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَرِيكٍ ، ثَنَا أَبِي ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَقْبَلَ رَجُلٌ حَسَنُ الصَّمْتِ ، وَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ أَنَسٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
قُلْتُ : وَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ لَهُ وَجْهًا غَيْرَ ذَلِكَ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانۂ اقدس میں ایک شخص ہمارے ہمراہ غزوات میں شریک ہوا کرتا تھا، جب وہ (جہاد سے) واپس لوٹتا اور اپنی سواری سے سامان اتار لیتا تو فوراً مسجد کا قصد کرتا اور وہاں نماز پڑھنے میں مشغول ہو جاتا، وہ اپنی نماز کو اس قدر طویل کرتا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ کرام یہ گمان کرنے لگے کہ اسے ان پر کوئی برتری اور فضیلت حاصل ہے۔ ایک دن وہ وہاں سے گزرا جبکہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ہمراہ تشریف فرما تھے، تو آپ ﷺ کے کسی صحابی نے عرض کی: ”یہ وہی شخص ہے (جس کی عبادت کا تذکرہ ہوا تھا)۔“ پھر یا تو آپ ﷺ نے اسے بلاوا بھیجا یا وہ خود ہی آپ کی جانب آیا، جب رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! بلاشبہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان شیطان کا ایک نشان (کبر و غرور کا اثر) ہے۔“ پھر جب وہ مجلس کے پاس آ کر رکا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے ابھی اپنے دل میں یہ خیال کیا ہے کہ اس پوری جماعت میں کوئی بھی مجھ سے بہتر نہیں ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں (میں نے یہی سوچا ہے)۔“ پھر وہ وہاں سے پلٹ گیا اور مسجد کے ایک کونے میں جا کر اپنے پاؤں سے ایک لکیر کھینچی، پھر اپنے ٹخنوں کو برابر کیا اور نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو گیا... پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
یہ روایت کتاب القدر میں بھی سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے مروی زید بن اسلم کی حدیث سے گزر چکی ہے۔ امام بزار رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی مجلس میں موجود تھے کہ ایک ایسا شخص نمودار ہوا جو بظاہر بہت خاموش طبع اور پروقار تھا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت بیان کی اور امام بزار نے کہا کہ ہمیں علم نہیں کہ یہ روایت اس طریق کے علاوہ کسی اور سند سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہو، جبکہ (صاحبِ کتاب کہتے ہیں کہ) میں جانتا ہوں کہ اس حدیث کی دیگر اسانید و طرق بھی موجود ہیں۔