❮
❯
حدیث نمبر: 4441
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، ثَنَا هُودُ بْنُ عَطَاءٍ الْيَمَامِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ فِينَا شَابٌّ ذُو عِبَادَةٍ وَزُهْدٍ وَاجْتِهَادٍ ، قَالَ : فَسَمَّيْنَاهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَعْرِفْهُ ، وَوَصَفْنَاهُ بِصِفَتِهِ ، فَلَمْ يَعْرِفْهُ ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ أَقْبَلَ ، فَقُلْنَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ هَذَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لَأَرَى عَلَى وَجْهِهِ سَفْعَةً مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَجَاءَ فَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَجَعَلْتَ فِي نَفْسِكَ أَنْ لَيْسَ فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ خَيْرًا مِنْكَ ؟ قَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، ثُمَّ وَلَّى ، وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَقْتُلُ الرَّجُلَ ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَا ، فَدَخَلَ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي ، فَقَالَ : أَقْتُلُ رَجُلًا يُصَلِّي ، وَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَرْبِ الْمُصَلِّينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَقْتُلُ الرَّجُلَ ؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ ، فَقَالَ مِثْلَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، وَزَادَ : لَأَرْجِعَنَّ ، فَقَدْ رَجَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَهْ يَا عُمَرُ ، فَذَكَرَ لَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَقْتُلُ الرَّجُلَ ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَا ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنْتَ تَقْتُلُهُ إِنْ وَجَدْتَهُ ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَوَجَدَهُ قَدْ خَرَجَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا وَاللهِ لَوْ قَتَلْتَهُ ، لَكَانَ أَوَّلَهُمْ وَآخِرَهُمْ ، وَمَا اخْتَلَفَ فِي أُمَّتِي اثْنَانِ .
4441 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ بِهِ .
4441 \ 3 - وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ ، ثَنَا أَبِي ، ثَنَا مُوسَى بِهِ .
4441 \ 4 - وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ أَبُو جَعْفَرٍ بِبَغْدَادَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ بِهِ .
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے درمیان ایک نوجوان تھا جو نہایت عبادت گزار، زاہد اور محنتی تھا؛ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے اسے نہ پہچانا، پھر ہم نے اس کے اوصاف بیان کیے تو بھی آپ ﷺ نے اسے نہ پہچانا، اسی اثنا میں وہ سامنے سے آتا دکھائی دیا تو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: "یہ رہا وہ شخص!" آپ ﷺ نے اسے دیکھ کر ارشاد فرمایا: "بے شک میں اس کے چہرے پر شیطان کا اثر اور اس کی نحوست کی ایک جھلک دیکھ رہا ہوں۔" پھر وہ شخص قریب آیا اور سلام کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: "کیا تم نے اپنے جی میں یہ بات بٹھا رکھی ہے کہ اس پوری جماعت میں تم سے بہتر کوئی دوسرا شخص نہیں ہے؟" اس نے جواب دیا: «اللَّهُمَّ نَعَمْ» ”اے اللہ! جی ہاں“، پھر وہ پیٹھ پھیر کر مڑا اور مسجد میں داخل ہو گیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: "اس شخص کو کون قتل کرے گا؟" سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "میں"، وہ اندر گئے تو دیکھا کہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہے، انہوں نے سوچا: "کیا میں ایسے شخص کو قتل کر دوں جو نماز پڑھ رہا ہے؟ جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نمازیوں پر ضرب لگانے سے منع فرمایا ہے"۔ رسول اللہ ﷺ نے پھر دریافت فرمایا: "اس شخص کو کون قتل کرے گا؟" سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول ﷺ! میں"، وہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ سجدے کی حالت میں ہے، انہوں نے بھی ویسا ہی سوچا جیسا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سوچا تھا اور مزید یہ کہا: "میں ضرور واپس لوٹ جاؤں گا کیونکہ وہ شخصیت بھی لوٹ چکی ہے جو مجھ سے بہتر ہے"۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اے عمر! ٹھہر جاؤ"، پھر انہوں نے سارا ماجرا سنایا۔ آپ ﷺ نے پھر دریافت فرمایا: "اس شخص کو کون قتل کرے گا؟" سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "میں"، آپ ﷺ نے فرمایا: "تم ہی اسے قتل کرو گے بشرطیکہ تم اسے پا لو"۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہ نکل چکا تھا۔ تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "آگاہ رہو! اللہ کی قسم، اگر تم اسے قتل کر دیتے تو وہ ان فتنہ پروروں میں پہلا اور آخری شخص ثابت ہوتا اور میری امت میں پھر کبھی دو بندے بھی اختلاف نہ کرتے"۔
امام ابویعلیٰ نے اسے ابوبکر بن ابی شیبہ کی سند سے، عمرو بن ضحاک بن مخلد نے اپنے والد سے اور محمد بن فرج ابوجعفر نے بغداد میں محمد بن زبرقان سے، ان سب نے موسیٰ بن عبیدہ کی سند سے اسی طرح روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4441
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه سنن الدارقطني برقم: 1756، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 90، وأخرجه مسند البزار برقم: 7510، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 4441 / 3»