المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ مِنْ قتل الحرورية باب: حروریہ کو قتل کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : كَانَتْ مَجَالِسُ النَّاسِ الْمَسَاجِدَ ، حَتَّى رَجَعُوا مِنْ صِفِّينَ ، وَبَرَؤُوا مِنَ الْقَضِيَّةِ ، فَاسْتَخَفَّ النَّاسُ ، فَقَعَدُوا فِي السِّكَكِ يَتَخَبَّرُونَ الْأَخْبَارَ ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ قُعُودٌ عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، إِذْ قَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : ائْذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ ، فَشُغِلَ بِمَا كَانَ فِيهِ ، قُلْنَا لَهُ : مَا الَّذِي أَرَدْتَ أَنْ تَسْأَلَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَنْهُ ؟ فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ فِي الْعُمْرَةِ ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، فَقَالَتْ : مَا هَؤُلَاءِ الَّذِينَ خَرُّوا قِبَلَكُمْ ، يُقَالُ لَهُمْ : حَرُورَاءُ ؟ فَقَالَتْ : أَشَهِدْتَ هَلَكَتَهُمْ ، أَمَا إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ لَوْ شَاءَ حَدَّثَكُمْ حَدِيثَهُمْ ، فَلَمَّا فَرَغَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِمَّا كَانَ فِيهِ ، قَالَ : أَيْنَ الرَّجُلُ ؟ فَقَصَّ عَلَيْهِ ، فَأَهَلَّ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَبَّرَ ، ثُمَّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ عِنْدَهُ غَيْرُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ أَنْتَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ وَقَوْمُ كَذَا وَكَذَا ؟ قُلْتُ : اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَوْمٌ يَخْرُجُونَ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، فِيهِمْ رَجُلٌ مُخَدَجُ الْيَدِ ، كَأَنَّ يَدَهُ ثَدْيُ حَبَشِيَّةٍ ، فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنْشُدُكُمُ اللهَ ، قَدْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ فِيهِمْ ، فَقُلْتُمْ : لَيْسَ فِيهِمْ ، ثُمَّ أَتَيْتُمُونِي بِهِ ، تَسْحَبُونَهُ ؟ فَقَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، فَأَهَلَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَبَّرَ .عاصم بن کلیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ لوگوں کی نشست گاہیں مساجد ہوا کرتی تھیں، یہاں تک کہ وہ جنگِ صفین سے واپس آگئے اور تحکیم (فیصلے) سے بیزاری کا اظہار کر دیا، تو لوگ (مساجد کی اہمیت کو) معمولی سمجھنے لگے اور گلی کوچوں میں بیٹھ کر خبروں کا تبادلہ کرنے لگے۔ اسی اثنا میں جب ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ”مجھے بات کرنے کی اجازت دیں“، لیکن آپ رضی اللہ عنہ اپنے کسی کام میں مشغول تھے۔ ہم نے اس شخص سے پوچھا: ”تم امیر المؤمنین سے کس چیز کے متعلق سوال کرنا چاہتے ہو؟“ اس نے کہا: ”میں عمرہ پر گیا تھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے پوچھا کہ تمہاری جانب سے خروج کرنے والے وہ لوگ کون ہیں جنہیں حروراء (خوارج) کہا جاتا ہے؟ پھر انہوں نے پوچھا: ’کیا تم ان کی ہلاکت (میدانِ جنگ) کے وقت موجود تھے؟ یاد رکھو! اگر علی بن ابی طالب چاہیں تو تمہیں ان کا حال سنا سکتے ہیں‘“۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے کام سے فارغ ہوئے تو پوچھا: ”وہ آدمی کہاں ہے؟“ اس شخص نے آپ کو سارا قصہ سنایا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ اور «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔ پھر فرمایا: ”میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوا کوئی نہ تھا، تو نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابنِ ابی طالب! تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب ایک ایسی اور ایسی قوم (نمودار) ہوگی؟“ میں نے عرض کیا: ”اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک قوم مشرق کی جانب سے نکلے گی جو قرآن تو پڑھے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے، ان میں ایک ایسے ہاتھ والا شخص ہوگا جو ناقص (مضغہ گوشت کی طرح) ہوگا گویا اس کا ہاتھ کسی حبشی عورت کی چھاتی کی طرح ہو“۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (وہاں موجود لوگوں سے) فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا میں نے تمہیں پہلے نہیں بتایا تھا کہ وہ شخص ان میں موجود ہوگا؟ مگر تم نے کہا کہ وہ ان میں نہیں ہے، پھر تم اسے میرے پاس گھسیٹتے ہوئے لے آئے؟“ لوگوں نے عرض کیا: ”اے اللہ! (گواہ رہنا) ہاں (ایسا ہی ہوا تھا)“، تب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دوبارہ بلند آواز سے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ اور «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔
اس حدیث کی سند حسن ہے اور اس کے بنیادی اجزاء کی اصل صحیحین (بخاری و مسلم) میں موجود ہے، امام حاکم نے اسے اپنی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔