المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ أخبار الخوارج باب: خوارج کے حالات کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْعُرْيَانِ الْحَارِثِيُّ ، ثَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ : شَهِدْتُ يَوْمَ قُتِلَ أَهْلُ النَّهَرَوَانِ ..... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : فَلَوْ خَرَجَ رُوحُ إِنْسَانٍ مِنَ الْفَرَحِ لَخَرَجَ رُوحُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ ، قَالَ : صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ ، مَنْ حَدَّثَنِي أَنَّهُ رَآهُ فِي النَّاسِ مِنْ قَبْلِ مَصْرَعِهِ هَذَا فَأَنَا كَذَّابٌ .قبیلہ عبد القیس کے ایک شخص سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں اس دن (میدانِ جنگ میں) موجود تھا جس دن اہل نہروان (خوارج) قتل کیے گئے، پھر انہوں نے مکمل حدیث بیان کی جس میں یہ مذکور ہے کہ: اگر کسی انسان کی روح کمالِ مسرت و شادمانی کی وجہ سے (جسم سے) پرواز کر سکتی ہوتی تو اس دن سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی روح (خوشی کی کثرت کے سبب) ضرور نکل جاتی، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ نے (حقانیتِ واقعہ پر) فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) نے سچ فرمایا، اور جس کسی نے بھی مجھ سے یہ بیان کیا کہ اس نے اس شخص (علامت والے خارجی) کو اس کے اس جائے مقتل پر گرنے سے پہلے لوگوں میں (زندہ) دیکھا ہے تو میں جھوٹا ہوں۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عبد الرحمن بن العریان الحارثی راوی موجود ہیں جو کہ مختلف فیہ ہیں، تاہم اصل واقعے کی تائید دیگر صحیح روایات سے ہوتی ہے۔