المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ أخبار الخوارج باب: خوارج کے حالات کا بیان۔
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ سَيِّدِي يَعْنِي : عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، حِينَ قَتَلَ أَهْلَ النَّهَرَوَانِ ، فَكَأَنَّ النَّاسَ قَدْ وَجَدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ مِنْ قَتْلِهِ . فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِي : إِنَّ نَاسًا يَخْرُجُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ أَبَدًا ، أَلَا وَإِنَّ آيَةَ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا أَسْوَدَ مُخْدَجَ الْيَدِ ، إِحْدَى يَدَيْهِ كَثَدْيِ امْرَأَةٍ ، لَهَا حَلَمَةٌ كَحَلَمَةِ الْمَرْأَةِ ، قَالَ : وَأَحْسَبُ ، قَالَ : حَوْلَهَا سَبْعُ هُلْبَاتٍ ، فَالْتَمِسُوهُ ، فَإِنِّي لَا أُرَاهُ إِلَّا مِنْهُمْ ، فَوَجَدُوهُ عَلَى شَفِيرِ النَّهَرِ ، تَحْتَ الْقَتْلَى ، فَقَالَ : صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ ، وَإِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَمُتَقَلِّدًا قَوْسًا لَهُ عَرَبِيَّةً ، يَطْعَنُ بِهَا فِي مَخْرَجِهِ ، قَالَ : فَفَرِحَ النَّاسُ حِينَ رَأَوْهُ ، وَاسْتَبْشَرُوا ، وَذَهَبَ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَجِدُونَهُ .
4435 \ 2 - وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ سَيِّدِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَهُ .ابوکثیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے آقا سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس وقت موجود تھے جب انہوں نے اہل نہروان (خوارج) کو قتل کیا، تو لوگوں کے دلوں میں اس قتل و قتال کی وجہ سے کچھ میل یا تنگی سی محسوس ہونے لگی، تب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (حقیقت حال واضح کرنے کے لیے) فرمایا: ”اے لوگو! یقیناً نبی کریم ﷺ نے مجھ سے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ: ”کچھ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے پار نکل جاتا ہے، پھر وہ اس (دین) میں کبھی بھی واپس نہیں پلٹیں گے۔ یاد رکھو! اس کی علامت یہ ہے کہ ان میں ایک سیاہ رنگت والا شخص ہوگا جس کا ایک ہاتھ ناقص ہوگا، اس کا ایک ہاتھ عورت کے پستان کی مانند ہوگا جس کی گھنڈی بھی عورت کے پستان جیسی ہوگی۔““ راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ: ”اس (گھنڈی) کے گرد سات بال ہوں گے۔“ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا: ”تم اسے تلاش کرو، کیونکہ میرا پختہ خیال ہے کہ وہ انہی لوگوں میں شامل ہوگا۔“ پھر لوگوں نے اسے نہر کے کنارے مقتولین کے نیچے سے ڈھونڈ نکالا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا: «صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ» ”اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔“ اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک عربی کمان حمائل کیے ہوئے تھے جس کی نوک سے وہ اس شخص کے ہاتھ کے اس مخصوص مقام پر ٹھوکا لگا رہے تھے، راوی بیان کرتے ہیں کہ جب لوگوں نے اسے دیکھ لیا تو وہ خوشی سے نہال ہو گئے اور ایک دوسرے کو بشارتیں دینے لگے، اور ان کے دلوں میں جو کھٹک یا بوجھ تھا وہ بالکل زائل ہو گیا۔
امام ابن ابی عمر نے بھی اسے عبدالرحمن بن خالد، انہوں نے اسماعیل بن مسلم سے اور انہوں نے انصار کے مولیٰ ابوکثیر کے واسطے سے روایت کیا ہے کہ وہ اپنے آقا سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے، پھر انہوں نے مکمل قصہ مذکورہ بالا الفاظ کی طرح بیان کیا۔