المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ أخبار الخوارج باب: خوارج کے حالات کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، ثَنَا أَفْلَحُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَهُوَ يُقَسِّمُ الْغَنِيمَةَ ...... الْحَدِيثَ . فِي قَوْلِ الرَّجُلِ : " هَذِهِ قِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللهِ " .
قَالَ : فَحَضَرْتُ بَعْدَ ذَلِكَ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ قَتَلَهُمْ بِالنَّهْرَوَانِ ، فَالْتَمَسَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَعْنِي : الْمُخْدَجَ - قَالَ : فَلَمْ يَجِدْهُ ، ثُمَّ وَجَدَهُ بَعْدَ ذَلِكَ تَحْتَ جِدَارٍ عَلَى هَذَا النَّعْتِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَيُّكُمْ يَعْرِفُ هَذَا الرَّجُلَ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : نَحْنُ نَعْرِفُهُ ، هَذَا حُرْقُوصٌ ، وَأُمُّهُ هَاهُنَا ، قَالَ : فَأَرْسَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أُمِّهِ ، فَقَالَ لَهَا : مِمَّنْ هَذَا ؟ قَالَتْ : مَا أَدْرِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِلَّا كُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَرْعَى غَنَمًا لِي بِالرَّبَذَةِ ، فَغَشِيَنِي شَيْءٌ كَهَيْئَةِ الظُّلْمَةِ ، فَحَمَلْتُ مِنْهُ ، فَوَلَدْتُ هَذَا .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مقامِ حنین پر موجود تھے اور آپ ﷺ مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے (تو اس دوران ایک شخص کے اس قول کا تذکرہ ہوا جس نے کہا تھا): ”یہ ایسی تقسیم ہے جس میں اللہ کی رضا پیشِ نظر نہیں رکھی گئی“۔
راوی (سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ میں اس واقعے کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ اس وقت موجود تھا جب انہوں نے مقامِ نہروان پر ان (خوارج) کو قتل کیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو تلاش کیا یعنی اس مخدج (ناقص الاعضاء) شخص کو؛ وہ انہیں پہلے نہ ملا لیکن پھر اسے ایک دیوار کے نیچے بالکل اسی صفت و نشانی پر پا لیا گیا جو بیان کی گئی تھی۔ تب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: ”تم میں سے کون اس شخص کو پہچانتا ہے؟“ تو لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا: ”ہم اسے پہچانتے ہیں، یہ حرقوص ہے اور اس کی ماں یہاں موجود ہے“۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی ماں کو بلا بھیجا اور اس سے پوچھا: ”یہ (بیٹا) کس سے ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”اے امیر المؤمنین! میں نہیں جانتی، بس اتنا ہوا تھا کہ میں زمانہ جاہلیت میں مقامِ ربذہ پر اپنی بکریاں چرا رہی تھی کہ اچانک تاریکی کے سائے جیسی کوئی چیز مجھ پر چھا گئی، جس سے مجھے حمل ٹھہر گیا اور پھر یہ لڑکا پیدا ہوا“۔
اس حدیث کی تخریج امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں کی ہے، جس کی سند میں محمد بن بکار، ابو معشر، افلح بن عبداللہ بن مغیرہ، زہری اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کے واسطے سے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تک تسلسل پایا جاتا ہے۔