المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
باب (أحاديث 4428–4429) باب: (احادیث 4428 تا 4429)
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُرَادِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ شَاعِرٌ لَيْلَةَ صِفِّينَ ، يُنْشِدُ هِجَاءَ مُعَاوِيَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : الْزَقْ بِالْفَجُورَيْنِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : هَذَا وَأَنْتُمْ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ عَمَّارٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنْ شِئْتَ أَنْ تَجْلِسَ فَاجْلِسْ ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَذْهَبَ فَاذْهَبْ .عبداللہ بن سلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جنگِ صفین کی ایک رات ایک شاعر سیدنا معاویہ اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کی ہجو و مذمت میں اشعار پڑھ رہا تھا، اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ (اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے) فرما رہے تھے: ”تم ان دونوں گناہگاروں کی مذمت پر جمے رہو۔“ اس پر ایک شخص نے (حیرت و تعجب سے) کہا: ”کیا آپ یہ سب کر رہے ہیں حالانکہ آپ لوگ نبی کریم ﷺ کے صحابہ ہیں؟“ تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے (دو ٹوک انداز میں) فرمایا: ”اگر تم بیٹھنا چاہو تو بیٹھ جاؤ، اور اگر تم یہاں سے جانا چاہو تو جا سکتے ہو۔“
اس اثر کی سند میں شریک بن عبداللہ القاضی راوی ہیں جو اپنے حافظے کی بنیاد پر محدثین کے ہاں کلام سے خالی نہیں، نیز اسے امام اسحاق بن راہویہ نے روایت کیا ہے۔