المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
باب (أحاديث 4428–4429) باب: (احادیث 4428 تا 4429)
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ قَالَ : اجْتَمَعَ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمِنْهُمُ ابْنُ مَسْعُودٍ ، وَحُذَيْفَةُ ، وَسَعْدٌ ، وَابْنُ عُمَرَ ، وَعَمَّارٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فَذَكَرَ حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِتْنَةً ، فَقَالَ : أَمَّا أَنَا فَإِنْ أَدْرَكْتُهَا عَلِمْتُ الْمَخْرَجَ مِنْهَا ، وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَأَنَا إِنْ أَدْرَكْتُهَا عَلِمْتُ الْمَخْرَجَ مِنْهَا ، فَقَالَ سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَمَّا أَنَا إِنْ أَدْرَكْتُهَا فَوَجَدْتُ سَيْفًا ، يَقُولُ : هَذَا مُؤْمِنٌ فَدَعْهُ ، وَهَذَا كَافِرٌ فَاقْتُلْهُ ، قَاتَلْتُ وَإِلَّا لَمْ أُقَاتِلْ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : وَأَنَا مَعَكَ ، فَقَالَ عَمَّارٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَمَّا أَنَا فَإِنْ أَدْرَكْتُهَا أَخَذْتُ سَيْفِي فَوَضَعْتُهُ عَلَى عَاتِقِي ، ثُمَّ قَصَدْتُ نَحْوَ جُمْهُورِهَا الْأَعْظَمِ فَضَرَبْتُ حَتَّى يَتَفَرَّقَ .
هَذَا مُنْقَطِعٌ .ہشام بن حسان سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت یکجا ہوئی، جن میں سیدنا ابن مسعود، سیدنا حذیفہ، سیدنا سعد، سیدنا ابن عمر اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہم شامل تھے؛ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کسی فتنے کا تذکرہ چھیڑا اور فرمایا: ”رہی میری بات، تو اگر میں نے اس فتنے کا دور پا لیا تو میں اس سے بچ نکلنے کا راستہ بخوبی جانتا ہوں۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی (ان کی تائید میں) فرمایا: ”اور میں بھی اگر اس فتنے کو پا لوں تو اس سے خلاصی پانے کی راہ سے خوب واقف ہوں۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لیکن میری بات یہ ہے کہ اگر میں نے اس فتنے کا زمانہ پایا اور مجھے ایسی تلوار مل گئی جو (گویا پکار کر) کہے کہ یہ مومن ہے اسے چھوڑ دو اور یہ کافر ہے اسے قتل کر دو، تب تو میں قتال کروں گا ورنہ میں ہرگز لڑائی نہیں کروں گا۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میں بھی (اس موقف میں) آپ کے ساتھ ہوں۔“ اس پر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے (اپنا جوش ظاہر کرتے ہوئے) فرمایا: ”رہی میری بات، تو اگر میں نے اس فتنے کا سامنا کیا تو میں اپنی تلوار پکڑوں گا، اسے اپنے کندھے پر رکھوں گا، پھر فتنہ پروروں کے سب سے بڑے گروہ کا رخ کروں گا اور ان پر اس وقت تک ضرب لگاؤں گا جب تک کہ وہ تتر بتر نہ ہو جائیں۔“
یہ روایت منقطع ہے۔