❮
❯
حدیث نمبر: 4430
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ ، لَا عَذَابَ عَلَيْهَا إِلَّا مَا عَذَّبَتْ هِيَ أَنْفُسَهَا ، قَالَتْ : قُلْتُ : وَكَيْفَ تُعَذِّبُ نَفْسَهَا ؟ قَالَ : أَمَا كَانَ يَوْمَ الْجَمَلِ عَذَابٌ ؟ أَمَا كَانَ يَوْمَ صِفِّينَ عَذَابٌ ؟ أَمَا كَانَ يَوْمَ النَّهَرِ عَذَابٌ ؟ .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بے شک یہ امت ایسی امت ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے، اس پر (آخرت میں دیگر ہلاک ہونے والی امتوں جیسا عمومی) عذاب نہیں ہوگا، سوائے اس (آزمائش اور باہمی کشت و خون) کے جو یہ خود اپنے آپ پر مسلط کرلے گی۔“ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے دریافت کیا: یہ امت اپنے آپ کو کیسے عذاب دے گی؟ انہوں نے فرمایا: ”کیا جنگِ جمل (ہولناکی اور) عذاب نہ تھی؟ کیا جنگِ صفین ایک عذاب نہ تھی؟ اور کیا مقامِ نہروان پر ہونے والی جنگ عذاب نہ تھی؟“
مسند ابویعلیٰ: 4430، علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں ذکر کیا ہے کہ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4430
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 6204، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 4186»