❮
❯
حدیث نمبر: 4427
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ ، ثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَعْدٍ ، قَالَ : كُنْتُ وَاقِفًا بِصِفِّينَ إِلَى جَنْبِ الْأَحْنَفِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَالْأَحْنَفُ إِلَى جَنْبِ عَمَّارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَسَمِعْتُ عَمَّارًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : عَهِدَ إِلَيَّ خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ آخِرَ زَادِي مِنَ الدُّنْيَا ضَيْحَةُ لَبَنٍ ، قَالَ : فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ سَطَعَ الْغُبَارُ ، وَقَالُوا : جَاءَ أَهْلُ الشَّامِ وَقَامَتِ السُّقَاةُ يَسْقُونَ النَّاسَ ، فَجَاءَتْهُ جَارِيَةٌ مَعَهَا قَدَحُ لَبَنٍ ، فَنَاوَلَتْهُ عَمَّارًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَشَرِبَهُ ، ثُمَّ نَاوَلَ عَمَّارٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَضْلَهُ الْأَحْنَفَ بْنَ قَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، ثُمَّ نَاوَلَنِي الْأَحْنَفُ ، فَقُلْتُ : إِنْ كَانَ صَاحِبُكَ صَادِقًا ، فَخَلِيقٌ أَنْ يُقْتَلَ الْآنَ ، قَالَ : فَغَشِيَنَا الْقَوْمُ ، فَتَقَدَّمَ عَمَّارٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ :
الْجَنَّةُ تَحْتَ الْأَسِنَّةِ الْيَوْمَ أَلْقَى الْأَحِبَّةَ
مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ ثُمَّ كَانَ آخِرَ الْعَهْدِ بِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
ترجمہ

بنو سعد کے ایک شخص سے روایت ہے کہ میں جنگِ صفین کے موقع پر احنف بن قیس رحمہ اللہ کے پہلو میں کھڑا تھا اور احنف، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں موجود تھے، تب میں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”میرے خلیل (نبی کریم) ﷺ نے مجھ سے یہ عہد فرمایا تھا کہ اس دنیا میں میرا آخری توشہ دودھ کا ایک ایسا پیالہ ہو گا جس میں پانی کی آمیزش ہو گی“، راوی بیان کرتے ہیں کہ ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ اچانک گرد و غبار اڑا اور لوگوں نے پکار کر کہا کہ اہلِ شام کا لشکر آ پہنچا ہے، اور پانی پلانے والے لوگوں کو پانی پلانے کے لیے کھڑے ہو گئے، اسی دوران ایک لڑکی آئی جس کے پاس دودھ کا ایک پیالہ تھا، اس نے وہ پیالہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو تھمایا تو انہوں نے وہ نوش فرما لیا، پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اپنا بچا ہوا دودھ احنف بن قیس رحمہ اللہ کو دے دیا اور پھر احنف نے وہ مجھے پکڑا دیا، تب میں نے (دل میں) کہا کہ ”اگر آپ کے صاحب (نبی کریم ﷺ) سچے ہیں تو اب ان (عمار) کے شہید ہونے کا وقت قریب آ گیا ہے“، راوی کہتے ہیں کہ پھر دشمن ہم پر چھا گیا اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، اس وقت میں نے انہیں یہ کلمات کہتے ہوئے سنا: «الْجَنَّةُ تَحْتَ الْأَسِنَّةِ الْيَوْمَ أَلْقَى الْأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ» ”جنت نیزوں کی انیوں کے نیچے ہے، آج میں اپنے پیاروں یعنی محمد ﷺ اور ان کی جماعت سے جا ملوں گا“، پھر ان کے ساتھ ہمارا یہ آخری وقت اور ملاقات تھی۔
اس روایت کی سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہے اور اس میں ایک غیر معروف (مبہم) راوی بھی ہے، تاہم سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت اور آخری وقت میں دودھ پینے کا تذکرہ دیگر مستند ذرائع اور کتبِ سیر میں بھی موجود ہے جو اس واقعے کی تائید کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4427
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»