المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ مقتل عمار بصفين وقوله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تقتل عمارا الفئة الباغية باب: صفین میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت اور حدیث «عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا» کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ شُعَيْبٍ أَخُو عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، بِالشَّامِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : كَانَتْ أُمُّ عَبْدِ اللهِ بِنْتُ مُنَبِّهِ بْنِ الْحَجَّاجِ تَلْطُفُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهَا ذَاتَ يَوْمٍ ، فَقَالَ : كَيْفَ أَنْتِ يَا أُمَّ عَبْدِ اللهِ ؟ قَالَتْ : بِخَيْرٍ . فَكَيْفَ أَنْتَ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ : بِخَيْرٍ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَكَيْفَ عَبْدُ اللهِ ؟ قَالَتْ : بِخَيْرٍ ، وَعَبْدُ اللهِ رَجُلٌ تَرَكَ الدُّنْيَا ، فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ يَوْمَ صِفِّينَ : اخْرُجْ فَقَاتِلْ ، فَقَالَ : يَا أَبَتِ ! كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أُقَاتِلَ ؟ وَقَدْ كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ سَمِعْتَ ؟ قَالَ : نَشَدْتُكَ بِاللهِ ، أَتَعْلَمُ أَنَّ آخِرَ مَا كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَخَذَ بِيَدِكَ فَوَضَعَهَا فِي يَدِي ، فَقَالَ : أَطِعْ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : آمُرُكَ أَنْ تُقَاتِلَ ، فَخَرَجَ فَقَاتَلَ ، فَلَمَّا وَقَعَتِ الْحَرْبُ ، أَنْشَأَ عَمْرٌو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ :
شَبَّتِ الْحَرْبُ فَأَعْدَدْتُ لَهَا مُفْرِعَ الْحَارِكِ مَرْوِيَّ الثَّبَجْ يَصِلُ الشَّدَّ بِشَدٍّ وَإِذَا
وَثَبَ الْخَيْلُ مِنَ الشَّدِّ مَعَجْ جُرْشُعٌ أَعْظَمُهُ جُفْرَتُهُ
فَإِذَا وَثَبَ مِنَ الْمَاءِ حَدَجْ وَقَالَ عَمْرٌو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَيْضًا :
لَوْ شَهِدَتْ جُمْلٌ مَقَامِي وَمَشْهَدِي بِصِفِّينَ يَوْمًا شَابَ مِنْهَا الذَّوَائِبُ
عَشِيَّةَ جَاءَ أَهْلُ الْعِرَاقِ كَأَنَّهُمْ سَحَابُ رَبِيعٍ رَفَّعَتْهُ الْجَنَائِبُ
وَجِئْنَاهُمْ تَرَدَّى كَأَنَّ سُيُوفَنَا مِنَ الْبَحْرِ مَدٌّ مَوْجُهُ مُتَرَاكِبُ
إِذَا قُلْتُ قَدْ وَلَّوْا سِرَاعًا بَدَتْ لَنَا كَتَائِبُ مِنْهُمْ وَارْجَحَنَّتْ كَتَائِبُ
فَدَارَتْ رَحَانَا وَاسْتَدَارَتْ رَحَاهُمُ سَرَاةَ النَّهَارِ مَا تَوَلَّى الْمَنَاكِبُ
فَقَالُوا لَنَا إِنَّا نَرَى أَنْ تُبَايِعُوا عَلِيًّا فَقُلْنَا : بَلْ نَرَى أَنْ نُضَارِبَ .سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام عبداللہ بنت منبہ بن حجاج رسول اللہ ﷺ کے ساتھ انتہائی لطف و مروت اور حسنِ سلوک سے پیش آیا کرتی تھیں، ایک روز آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور دریافت فرمایا: ”اے ام عبداللہ! تمہارا کیا حال ہے؟“ انہوں نے عرض کی: میں خیریت سے ہوں، اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ کا کیا حال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں بھی خیر و عافیت سے ہوں۔“ پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اور عبداللہ کا کیا حال ہے؟“ انہوں نے عرض کی: وہ بھی بخیر ہے، لیکن عبداللہ ایسا شخص ہے جس نے دنیا کو (بالکل) ترک کر دیا ہے؛ چنانچہ جنگِ صفین کے دن ان کے والد (سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ) نے ان سے کہا: نکلو اور قتال کرو، تو عبداللہ نے عرض کی: اے ابا جان! آپ مجھے جنگ کرنے کا حکم کیسے دے رہے ہیں جبکہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں جو (فتنوں سے متعلق ارشادات) تھے وہ آپ سن چکے ہیں؟ سیدنا عمرو نے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ کے آخری عہد میں یہ ہوا تھا کہ آپ ﷺ نے تمہارا ہاتھ پکڑ کر میرے ہاتھ میں دیا اور فرمایا تھا: ”عمرو بن عاص کی اطاعت کرنا“؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! تو سیدنا عمرو نے فرمایا: (پھر) میں تمہیں قتال کا حکم دیتا ہوں۔ چنانچہ وہ نکلے اور جنگ میں شریک ہوئے، پھر جب جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے: جنگ کی آگ دہک اٹھی ہے تو میں نے اس کے لیے ابھری ہوئی کوہان والے اور مضبوط پشت والے گھوڑے کو تیار کر رکھا ہے، جو تیز رفتاری کو مزید تیزی سے جوڑ دیتا ہے، اور جب گھوڑے کثرتِ دوڑ سے ہانپنے لگیں تو وہ اپنی رفتار میں وسعت پیدا کر دیتا ہے، وہ طویل القامت ہے جس کے پہلو چوڑے ہیں، اور جب وہ پانی سے اچھلتا ہے تو (تیزی و قوت میں) کجاوے کی مانند معلوم ہوتا ہے۔ اور سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا: اگر (میری زوجہ) جمل صفین کے مقام پر میرے ٹھہرنے اور جنگی منظر کو دیکھ لیتی تو اس دن (دہشت سے) اس کی چٹیا کے بال سفید ہو جاتے، اس شام جب اہل عراق اس طرح آئے گویا وہ بہار کے بادل ہوں جنہیں جنوبی ہوائیں اٹھا لائی ہوں، اور ہم ان کے سامنے اس حال میں آئے کہ (دشمن پر) ٹوٹ پڑے گویا ہماری تلواریں سمندر کی وہ موجیں ہوں جو ایک دوسرے پر چڑھ رہی ہوں، جب میں سمجھتا کہ وہ پیٹھ پھیر کر تیزی سے بھاگ گئے ہیں تو ہمارے سامنے ان کے نئے لشکر ظاہر ہو جاتے اور دستے جم کر کھڑے ہو جاتے، پس دن کے بہترین حصے میں ہماری اور ان کی جنگ کی چکی گردش کرتی رہی اور کسی کے کندھے (میدان سے) نہ مڑے، انہوں نے ہمیں کہا کہ ہماری رائے میں آپ علی (رضی اللہ عنہ) کی بیعت کر لیں، تو ہم نے جواب دیا: بلکہ ہماری رائے یہ ہے کہ ہم (تلواروں سے) ایک دوسرے پر ضرب لگائیں۔
اس روایت کی تخریج امام حارث نے اپنی مسند میں کی ہے، اس کی سند میں عبدالملک بن قدامہ ضعیف ہے، تاہم عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا یہ قصہ کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کی وجہ سے جنگ میں شرکت کی اور قتال کیا تھا، دیگر مستند مصادر میں بھی مذکور ہے۔