المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ مقتل عمار بصفين وقوله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تقتل عمارا الفئة الباغية باب: صفین میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت اور حدیث «عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا» کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سُكَيْنٍ ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ ، ثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : كَانَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَلِعَ بِقُرَيْشٍ وَوَلِعَتْ بِهِ ، فَغَدَوْا عَلَيْهِ وَضَرَبُوهُ ، فَخَرَجَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُغْضَبًا ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ؟ مَا لِي وَلِقُرَيْشٍ ، فَعَلَ اللهُ بِقُرَيْشٍ وَفَعَلَ ، غَدَوْا عَلَى رَجُلٍ فَضَرَبُوهُ ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَمَّارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ .زید بن وہب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ قریش کے درپے رہتے تھے اور قریش ان کے درپے رہا کرتے تھے، پھر ایک صبح قریش کے لوگوں نے ان پر حملہ کر دیا اور انہیں زدوکوب کیا، جس پر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ انتہائی غصے کی حالت میں باہر تشریف لائے اور منبر پر رونق افروز ہو کر اللہ رب العزت کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اے لوگو! میرا اور قریش کا کیا معاملہ ہے؟ اللہ تعالیٰ قریش کے ساتھ ایسا ویسا کرے (یعنی ان کے اس فعل پر ان کا سخت محاسبہ فرمائے)، انہوں نے ایک شخص پر صبح سویرے حملہ کر کے اسے مارا پیٹا ہے، حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔““
اس حدیث کی تخریج امام ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں کی ہے اور اس کی سند کے تمام راوی ثقہ اور معتبر ہیں، جبکہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ فرمانِ نبوی ﷺ دیگر صحیح اسناد سے بھی ثابت اور کتبِ حدیث میں مشہور و معروف ہے۔