المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ مقتل عمار بصفين وقوله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تقتل عمارا الفئة الباغية باب: صفین میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت اور حدیث «عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا» کا بیان۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، ثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مَيْسَرَةَ وَأَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَا : إِنَّ عَمَّارًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ صِفِّينَ جَعَلَ يُقَاتِلُ فَلَا يُقْتَلُ ، فَيَجِيءُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَيَقُولُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ! أَلَيْسَ هَذَا الْيَوْمَ كَذَا وَكَذَا هُوَ ؟ فَيَقُولُ : اذْهِبْ عَنْكَ . فَقَالَ ذَلِكَ مِرَارًا ، ثُمَّ أُتِيَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ ، فَقَالَ عَمَّارٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّ هَذَا لَآخِرُ شَرْبَةٍ أَشْرَبُهَا فِي الدُّنْيَا ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .میسرہ اور ابو البختری رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ جنگِ صفین کے دن سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ مسلسل قتال کر رہے تھے مگر وہ شہید نہیں ہو رہے تھے، چنانچہ وہ بار بار سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آتے اور عرض کرتے: ”اے امیر المؤمنین! کیا آج وہی (شہادت کا) دن نہیں ہے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جواب دیتے: ”آپ (میدانِ جنگ کی طرف) واپس جائیے۔“ انہوں نے کئی مرتبہ اسی طرح کیا، پھر ان کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا جسے انہوں نے نوش فرمایا، تب سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یقیناً دنیا میں یہ میرا آخری مشروب ہے جو میں پی رہا ہوں“، اس کے بعد وہ آگے بڑھے اور بھرپور قتال کیا یہاں تک کہ وہ شہید کر دیے گئے، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو۔
اس حدیث کی سند حسن ہے، اسے امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند (18833) اور امام حاکم نے المستدرک (5664) میں روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے شیخین کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔