المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ قَضَاءِ الْفَوَائِتِ باب: فوت شدہ نمازوں کی قضا کا بیان۔
حدیث نمبر: 442
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرِهِ الَّذِي نَامُوا فِيهِ - إِذْ طَلَعَتْ [عَلَيْهِمُ] الشَّمْسُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكُمْ كُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَرَدَّ اللهُ تَعَالَى إِلَيْكُمْ أَرْوَاحَكُمْ ، فَمَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ فَلْيُصَلِّهَا إِذَا اسْتَيْقَظَ ، وَمَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا " .
442 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ بِهِ .ترجمہ
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اس سفر میں تھے جس میں تمام لوگ (نیند کے غلبے کی وجہ سے) سوتے رہ گئے تھے یہاں تک کہ ان پر سورج طلوع ہو گیا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم سب (نیند کی حالت میں) مردہ تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحیں تمہیں واپس لوٹا دیں؛ لہٰذا جو شخص نماز سے سویا رہ جائے تو اسے چاہیے کہ بیدار ہوتے ہی اسے ادا کر لے، اور جو کوئی نماز بھول جائے تو اسے چاہیے کہ یاد آتے ہی اسے پڑھ لے۔“
امام ابویعلیٰ نے بھی اس روایت کو زہیر کے واسطے سے فضل بن دکین سے اسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔