المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ قَضَاءِ الْفَوَائِتِ باب: فوت شدہ نمازوں کی قضا کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، سَمِعْتُ لَيْثًا يُحَدِّثُ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ [حِرَاشٍ] ، عَنْ صِلَةَ قَالَ : ( اسْتَخْلَفَنِي حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَصَلَّيْنَا الظُّهْرَ ، وَأَتَيْنَا عَلَى قَوْمٍ يُصَلُّونَ الظُّهْرَ فَصَلَّيْنَا مَعَهُمْ ، ثُمَّ صَلَّيْنَا الْعَصْرَ ، فَأَتَيْنَا عَلَى قَوْمٍ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ فَصَلَّيْنَا مَعَهُمْ ، ثُمَّ صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ ، فَأَتَيْنَا عَلَى قَوْمٍ يُصَلُّونَ الْمَغْرِبَ فَصَلَّيْنَا مَعَهُمْ ، فَلَمَّا قُمْتُ فِي الثَّالِثَةِ احْتَبَسَنِي ) .صلہ بن زفر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنا نائب مقرر کیا، پس ہم نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر ہم کچھ ایسے لوگوں کے پاس پہنچے جو ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے تو ہم نے ان کے ساتھ بھی مل کر نماز پڑھی، پھر ہم نے عصر کی نماز ادا کی، پھر ہم ایسے لوگوں کے پاس آئے جو عصر کی نماز پڑھ رہے تھے تو ہم نے ان کے ساتھ بھی نماز پڑھی، پھر ہم نے مغرب کی نماز ادا کی، پھر ہم ایسے لوگوں کے پاس پہنچے جو مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے تو ہم نے ان کے ساتھ بھی (بطورِ نفل) نماز ادا کی، چنانچہ جب میں مغرب کی اس دوسری جماعت میں تیسری رکعت کے لیے اٹھنے لگا تو انہوں نے مجھے روک لیا۔“
اس روایت کی سند میں لیث بن ابی سلیم کی موجودگی کی وجہ سے ضعف ہے، کیونکہ وہ آخری عمر میں حافظے کی کمزوری (اختلاط) کا شکار ہو گئے تھے، تاہم باجماعت نماز کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے نماز کے اعادہ کا عمومی تصور دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔