❮
❯
حدیث نمبر: 4419
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ ، ثَنَا كُلْثُومُ بْنُ جَبْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْغَادِيَةِ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ : حَمَلْتُ عَلَى عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ صِفِّينَ ، فَدَفَعْتُهُ فَأَلْقَيْتُهُ عَنْ فَرَسِهِ ، وَسَبَقَنِي إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ، فَاحْتَزَّ رَأْسَهُ ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّأْسِ ، وَوَضَعْنَاهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، كِلَانَا يَدَّعِي قَتْلَهُ ، وَكِلَانَا يَطْلُبُ الْجَائِزَةَ عَلَى رَأْسِهِ ، وَعِنْدَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَمَّارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ، بَشِّرْ قَاتِلَ عَمَّارٍ بِالنَّارِ . فَتَرَكْتُهُ مِنْ يَدَيَّ ، فَقُلْتُ : لَمْ أَقْتُلْهُ ، وَتَرَكَهُ صَاحِبِي مِنْ يَدِهِ ، فَقَالَ : لَمْ أَقْتُلْهُ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَقْبَلَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : مَا يَدْعُوكَ إِلَى هَذَا ؟ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَوْلًا ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَقُولَهُ .
ترجمہ

سیدنا ابو الغادیہ الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے جنگِ صفین کے دن عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا، پس میں نے انہیں دھکا دے کر ان کے گھوڑے سے نیچے گرا دیا، لیکن مجھ سے پہلے ہی اہلِ شام میں سے ایک شخص ان تک پہنچ گیا اور ان کا سر قلم کر دیا، پھر ہم دونوں اس سر کے بارے میں فیصلہ کروانے کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور سر ان کے سامنے رکھ دیا، ہم دونوں ہی ان کے قتل کے دعویدار تھے اور اس پر انعام کے طالب تھے، اس وقت وہاں سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے، تو سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا، عمار کے قاتل کو جہنم کی آگ کی بشارت دے دو۔“ یہ سن کر میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور کہا کہ میں نے انہیں قتل نہیں کیا، اور میرے ساتھی نے بھی اپنا ہاتھ روک لیا اور کہا کہ میں نے انہیں قتل نہیں کیا، جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ منظر دیکھا تو وہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ آپ کو یہ بات کہنے پر کس چیز نے ابھارا؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک بات فرماتے ہوئے سنا تھا، اس لیے میں نے پسند کیا کہ میں بھی وہ بات (اس موقع پر) کہہ دوں۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اگرچہ اس کی سند میں یوسف بن عطیہ ضعیف راوی ہے، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر حدیث کا اصل مفہوم (عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا) صحیح اور متواتر احادیث سے ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4419
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 2678، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 8498، وأخرجه مسند أحمد برقم: 6611، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 7342، وأخرجه مسند البزار برقم: 2368، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 4414، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 39000، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 14245، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 7908»