❮
❯
حدیث نمبر: 4420
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ انْصَرَفُوا ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ، قَالَ عَمْرٌو لِمُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَى ابْنِ أَخِيكَ مَا يَقُولُ ؟ قَالَ : أُعِيذُكَ بِاللهِ مِنَ الشَّكِّ ، أَفِي الشَّكِّ أَنْتَ ؟ أَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ ؟ إِنَّمَا قَتَلَهُ مَنْ جَاءَ بِهِ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب جنگِ صفین کا دن (اختتام کو) پہنچا اور لوگ واپس ہونے لگے، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”عمار کو ایک سرکش گروہ قتل کرے گا۔“ یہ سن کر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے (تعجب کے ساتھ) کہا: کیا آپ نے اپنے بھتیجے کی بات پر توجہ نہیں دی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: «أُعِيذُكَ بِاللَّهِ مِنَ الشَّكِّ» ”میں تمہیں شک میں پڑنے سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں“، کیا تم واقعی کسی شک میں مبتلا ہو؟ کیا انہیں ہم نے قتل کیا ہے؟ انہیں تو محض ان لوگوں نے قتل کیا ہے جو انہیں (میدانِ قتال میں اپنے ساتھ) لے کر آئے ہیں۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، جبکہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ خبر رسول اللہ ﷺ سے متواتر اسناد کے ساتھ مروی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4420
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف منقطع »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 2678، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 8498، وأخرجه مسند أحمد برقم: 6611، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 7342، وأخرجه مسند البزار برقم: 2368، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 4414، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 39000، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 14245، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 7908»