المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ مقتل عمار بصفين وقوله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تقتل عمارا الفئة الباغية باب: صفین میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت اور حدیث «عمار کو باغی گروہ قتل کرے گا» کا بیان۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : أَمَا إِنِّي لَمْ أَطْعَنْ بِرُمْحٍ ، وَلَمْ أَضْرِبْ بِسَيْفٍ ، وَلَمْ أَرْمِ بِسَهْمٍ ، قَالَ : فَقِيلَ لَهُ : لِمَ ؟ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي : أَطِعْ أَبَاكَ فَأَطَعْتُهُ .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”آگاہ رہو! یقیناً میں نے (جنگ کے دوران) نہ تو نیزہ زنی کی، نہ ہی تلوار سے وار کیا اور نہ ہی کوئی تیر چلایا۔“ ان سے دریافت کیا گیا: ”آپ نے ایسا کیوں کیا؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”بیشک رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا تھا: ”اپنے والد کی اطاعت کرو“، چنانچہ میں نے ان (اپنے والد) کی فرمانبرداری کی (اور ان کے حکم پر میدانِ جنگ میں حاضر تو ہوا مگر لڑائی میں حصہ نہیں لیا)۔“
تخریج: یہ روایت امام احمد بن حنبل کی المسند میں مروی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے، تاہم دیگر صحیح احادیث سے والدین کی اطاعت اور فتنوں کے وقت قتال سے گریز کی تائید ہوتی ہے۔