❮
❯
حدیث نمبر: 4410
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي جَرْوٍ الْمَازِنِيِّ قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حِينَ تَوَافَقَا ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " يَا زُبَيْرُ ، أَنْشُدُكَ ، أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّكَ تُقَاتِلُ عَلِيًّا وَأَنْتَ ظَالِمٌ ؟ " قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : نَعَمْ ، وَلَمْ أَذْكُرْ ذَاكَ إِلَّا فِي مَقَامِي هَذَا ، ثُمَّ انْصَرَفَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
ترجمہ

سیدنا ابو جرو المازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اس وقت (میدانِ جنگ میں) موجود تھا جب سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کا ایک دوسرے سے آمنا سامنا ہوا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”اے زبیر! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ: ”یقیناً تم علی سے جنگ کرو گے حالانکہ تم اس وقت (اپنے موقف میں) ناحق ہو گے؟““ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں، اور مجھے یہ بات اس وقت تک یاد نہیں آئی تھی جب تک کہ میں یہاں اس مقام پر آ کھڑا نہیں ہوا“، پھر وہ (یہ یاد آتے ہی میدان سے) واپس لوٹ گئے۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، نیز امام حاکم نے اسے 'المستدرک' میں روایت کر کے صحیح قرار دیا ہے اور علامہ بوصیری نے 'اتحاف الخيرة المهرة' میں اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4410
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 5621، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 666، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 4403 / 1، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 38982»