المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ وقعة الجمل باب: واقعۂ جمل کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي جَرْوٍ الْمَازِنِيِّ قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حِينَ تَوَافَقَا ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " يَا زُبَيْرُ ، أَنْشُدُكَ ، أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّكَ تُقَاتِلُ عَلِيًّا وَأَنْتَ ظَالِمٌ ؟ " قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : نَعَمْ ، وَلَمْ أَذْكُرْ ذَاكَ إِلَّا فِي مَقَامِي هَذَا ، ثُمَّ انْصَرَفَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدنا ابو جرو المازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اس وقت (میدانِ جنگ میں) موجود تھا جب سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کا ایک دوسرے سے آمنا سامنا ہوا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”اے زبیر! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ: ”یقیناً تم علی سے جنگ کرو گے حالانکہ تم اس وقت (اپنے موقف میں) ناحق ہو گے؟““ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں، اور مجھے یہ بات اس وقت تک یاد نہیں آئی تھی جب تک کہ میں یہاں اس مقام پر آ کھڑا نہیں ہوا“، پھر وہ (یہ یاد آتے ہی میدان سے) واپس لوٹ گئے۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، نیز امام حاکم نے اسے 'المستدرک' میں روایت کر کے صحیح قرار دیا ہے اور علامہ بوصیری نے 'اتحاف الخيرة المهرة' میں اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔