المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ وقعة الجمل باب: واقعۂ جمل کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : إِنَّ أُمَّهُ وَخَالَتَهُ دَخَلَتَا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ..... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَتَا : فَأَخْبِرِينَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ قَالَتْ : أَيَّ شَيْءٍ تَسْأَلِينَنِي عَنْ رَجُلٍ وَضَعَ يَدَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْضِعًا فَسَالَتْ نَفْسُهُ فِي يَدِهِ ، فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ ، قَالَتَا : فَلِمَ خَرَجْتِ عَلَيْهِ ؟ قَالَتْ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : أَمْرٌ قُضِيَ ، فَوَدِدْتُ أَنِّي أَفْدِيهِ بِمَا عَلَى الْأَرْضِ .جمیع بن عمیر سے روایت ہے کہ ان کی والدہ اور ان کی خالہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، ان دونوں خواتین نے عرض کی: ”ہمیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق بتائیے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”تم مجھ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں کیا پوچھتی ہو جس نے رسول اللہ ﷺ کے (جسدِ مبارک) کے اس مقام پر اپنا ہاتھ رکھا ہوا تھا جہاں سے آپ ﷺ کی روحِ مبارک قبض ہو کر ان کے ہاتھوں میں آئی، پھر انہوں نے وہی (برکت والا) ہاتھ اپنے چہرے پر مل لیا؟“ ان دونوں نے سوال کیا: ”پھر آپ ان کے خلاف (میدانِ جنگ میں) کیوں نکلی تھیں؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”وہ ایک ایسا معاملہ تھا جو (تقدیرِ الٰہی سے) طے ہو چکا تھا، اب میری یہ تمنا ہے کہ کاش میرے پاس زمین کی ہر چیز ہوتی اور میں اس (خروج) کے بدلے وہ سب کچھ فدیہ میں دے دیتی۔“
تخریج: اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند [حدیث: 4407] میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں جمیع بن عمیر راوی ہے جسے جمہور محدثین نے ضعیف اور کٹر شیعہ قرار دیا ہے، لہٰذا یہ روایت سنداﹰ ضعیف ہے۔