المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ وقعة الجمل باب: واقعۂ جمل کا بیان۔
حدیث نمبر: 4406
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ قَالَ : جِئْتُ إِلَى الْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ : اعْذُرْنِي عِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَيْثُ لَمْ أَحْضُرِ الْوَقْعَةَ ، فَقَالَ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا تَصْنَعُ بِهَذَا ، لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَلُوذُ بِي ، وَهُوَ يَقُولُ : يَا حَسَنُ ، لَيْتَنِي مُتُّ قَبْلَ هَذَا بِعِشْرِينَ سَنَةً .ترجمہ
سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ ”امیر المومنین (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) کی بارگاہ میں میری طرف سے معذرت پیش کر دیجیے گا کہ میں اس معرکہِ جنگ میں حاضر نہ ہو سکا تھا“، تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم اس عذر خواہی کا کیا کرو گے؟ میں نے تو خود انہیں دیکھا کہ وہ مجھ سے لپٹے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے: اے حسن! کاش کہ میں اس واقعے سے بیس سال پہلے ہی وفات پا چکا ہوتا۔“
یہ روایت مسند الحارث کی ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔