المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ وقعة الجمل باب: واقعۂ جمل کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى قَالَ : قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : أَعْذِرْنِي عِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَ الْحَسَنُ : لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَوْمَ الْجَمَلِ وَهُوَ يَلُوذُ بِي ، وَهُوَ يَقُولُ : وَدِدْتُ أَنِّي مُتُّ قَبْلَ هَذَا بِكَذَا وَكَذَا سَنَةٍ .
قَالَ شُعْبَةُ : فَلَقِيتُ مَنْصُورًا فَقَالَ : مَا يَدْرِي ذَلِكَ الْأَعْوَرُ ، يَعْنِي أَبَا عَوْنٍ .ابوالضحٰی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: ”امیر المؤمنین (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں میرا عذر پیش کر دیجیے (کہ میں جنگِ جمل میں ان کا ساتھ کیوں نہ دے سکا)۔“ اس پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”بلاشبہ میں نے انہیں جنگِ جمل کے دن دیکھا کہ وہ مجھ سے چمٹ رہے تھے اور (انتہائی رنجیدگی سے) فرما رہے تھے: ”کاش کہ میں اس حادثے سے اتنے اتنے برس پہلے ہی موت کے منہ میں جا چکا ہوتا۔““
امام شعبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ پھر میں منصور بن معتمر سے ملا تو انہوں نے (اس روایت پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے) کہا: ”اس کانے (یعنی ابوعون) کو کیا پتہ (کہ اس وقت اصل صورتحال کیا تھی)؟“