المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ وقعة الجمل باب: واقعۂ جمل کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ رَجُلٍ مِنْ حَيَّةَ ، قَالَ : خَلَا عَلِيٌّ بِالزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَوْمَ الْجَمَلِ فَقَالَ : أَنْشُدُكَ اللهَ تَعَالَى ، كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَأَنْتَ لَاوِي يَدِي فِي سَقِيفَةِ بَنِي فُلَانٍ : لَتُقَاتِلَنَّهُ وَأَنْتَ لَهُ ظَالِمٌ ، ثُمَّ لَيُنْصَرَنَّ عَلَيْكَ ، فَقَالَ : قَدْ سَمِعْتُ ، لَا جَرَمَ ، لَا أُقَاتِلُكَ .عبدالسلام رحمہ اللہ (جو قبیلہ حیّہ کے ایک شخص تھے) سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جنگِ جمل کے دن سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے تنہائی میں ملاقات کی اور ان سے فرمایا کہ ”میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، تم نے رسول اللہ ﷺ کو اس وقت کیا فرماتے ہوئے سنا تھا جب تم بنو فلاں کے سقیفہ (سائبان) میں میرا ہاتھ تھامے اسے دبا رہے تھے کہ ”تم یقیناً اس (علی) سے قتال کرو گے حالانکہ تم اس وقت اس پر زیادتی کرنے والے ہو گے، پھر یقیناً اس کی تمہارے خلاف مدد کی جائے گی“؟“ یہ سن کر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اعتراف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”جی ہاں، میں نے یہ فرمانِ نبوی سنا ہے، اب یقیناً میں آپ سے قتال نہیں کروں گا“۔
اس روایت کو امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں بیان کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، نیز امام حاکم نے بھی اسے "المستدرک" میں صحیح قرار دیا ہے۔