المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ وقعة الجمل باب: واقعۂ جمل کا بیان۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، أَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجَمَلِ وَاصْطَفُّوا ، دَعَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَتَاهُ فَقَالَ : أَنْشُدُكَ اللهَ تَعَالَى أَمَا تَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَتُقَاتِلَنَّهُ وَأَنْتَ ظَالِمٌ لَهُ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، فَمَا ذَكَرْتُهُ قَبْلَ مَقَامِي هَذَا ، فَانْطَلَقَ رَاجِعًا ، فَلَمَّا رَآهُ صَاحِبُهُ تَبِعَهُ ، يَعْنِي : طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَمَاهُ مَرْوَانُ بِسَهْمٍ ، فَشَدَّ فَخِذَهُ بِحَدِيدِ السَّرْجِ .
4403 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، ثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ ، بِهِ .حکم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب جنگِ جمل کا دن ہوا اور لشکروں نے صف بندی کر لی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو بلایا، پس وہ ان کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تمہیں یاد نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (تم سے) فرمایا تھا کہ: ”تم ضرور اس (علی) سے قتال کرو گے حالانکہ تم اس پر زیادتی کرنے والے (ناحق) ہو گے؟““ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: «اللَّهُمَّ نَعَمْ» ”اے اللہ، ہاں!“ (مجھے اب یاد آ گیا ہے)، پھر فرمایا: ”مجھے اس مقام پر کھڑے ہونے سے پہلے یہ بات یاد نہیں آئی تھی“، چنانچہ وہ (میدانِ جنگ سے) واپس لوٹ گئے؛ جب ان کے ساتھی یعنی سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں (واپس جاتے) دیکھا تو وہ بھی ان کے پیچھے چل دیے، پھر مروان نے انہیں ایک تیر مارا جس نے ان کی ران کو زین کے لوہے کے ساتھ پیوست کر دیا (یعنی ران زین کے ساتھ جڑ گئی)۔
اور امام احمد بن منیع رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمیں ابو احمد نے حدیث بیان کی، ان سے ابواسرائیل نے اسی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے۔