المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ وقعة الجمل باب: واقعۂ جمل کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ مَوَالِي بَنِي تَمِيمٍ يُقَالُ لَهُ : أَبُو سُفْيَانَ : إِنَّ عَاتِكَةَ امْرَأَةَ عُمَرَ قَالَتْ :
غَدَرَ ابْنُ جُرْمُوزٍ بِفَارِسِ بُهْمَةٍ يَوْمَ اللِّقَاءِ وَكَانَ غَيْرَ مُعَرَّدِ يَا عَمْرُو ، لَوْ نَبَّهْتَهُ لَوَجَدْتَهُ ، لَا
طَائِشًا رَعْشَ الْيَدَيْنِ وَلَا الْيَدِ شُلَّتْ يَمِينُكَ إِنْ قَتَلْتَ لَمُؤْمِنًا
حَلَّتْ عَلَيْكَ عُقُوبَةُ الْمُتَعَمِّدِسیدہ عاتکہ رضی اللہ عنہا (زوجہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ انہوں نے (سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ابنِ جرموز کی مذمت میں) کہا: ”ابنِ جرموز نے میدانِ کارزار میں ایک ایسے نڈر اور بہادر شہسوار کے ساتھ غداری کی جو دشمن کو پیٹھ دکھا کر بھاگنے والا نہ تھا؛ اے عمرو! اگر تم نے انہیں (حملے سے پہلے) خبردار کیا ہوتا تو تم انہیں ہرگز بدحواس اور لرزتے ہاتھوں والا نہ پاتے؛ «شُلَّتْ يَمِينُكَ» ”تمہارا دایاں ہاتھ شل اور مفلوج ہو جائے“! یقیناً تم نے ایک صاحبِ ایمان کو قتل کیا ہے، اس لیے اب تم پر جان بوجھ کر قتل کرنے والے کی شرعی سزا واجب ہو چکی ہے“۔
یہ روایت سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدہ عاتکہ رضی اللہ عنہا کے کہے گئے اشعار پر مشتمل ہے، جن میں قاتل کی بزدلی اور غداری کو واضح کیا گیا ہے۔