المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الِاسْتِطَابَةِ باب: استنجاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 44
وَقَالَ أَيْضًا : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، أَنَّهُ رَأَى سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَالَ بَوْلَ الشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَهُوَ قَائِمٌ يَكَادُ يَسْبِقُهُ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَقُلْتُ : أَلَا تَنْزِعُ الْخُفَّيْنِ ؟ قَالَ : " لَا ، رَأَيْتُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي وَمِنْكَ مَسَحَ عَلَيْهَا " يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ .ترجمہ
ابوحازم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک معمر بوڑھے شخص کی مانند کھڑے ہو کر پیشاب کیا جبکہ قریب تھا کہ پیشاب (غلبے یا کثرت کی وجہ سے) ان پر سبقت لے جائے، پھر انہوں نے وضو کیا اور اپنے چمڑے کے موزوں پر مسح فرمایا، تو میں نے عرض کیا: ”کیا آپ اپنے موزے نہیں اتاریں گے؟“ انہوں نے فرمایا: ”نہیں، کیونکہ میں نے اس ہستی کو ان پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے جو مجھ سے بھی بہتر ہیں اور تم سے بھی“، ان کی مراد نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس تھی۔