المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الِاسْتِطَابَةِ باب: استنجاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 43
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى الْمِهْرَاسَ فَبَالَ قَائِمًا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، ثُمَّ تَوَجَّهَ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَقُلْتُ لَهُ : لَقَدْ فَعَلْتَ شَيْئًا يُكْرَهُ ؟ فَقَالَ : " خَدَمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ يَفْعَلُ ذَلِكَ " .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مِہراس (پتھر کے ایک بڑے حوض یا مخصوص مقام) کے پاس تشریف لائے اور وہاں کھڑے ہو کر پیشاب کیا، پھر وضو فرمایا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، اس کے بعد جب وہ مسجد کی طرف روانہ ہوئے تو میں نے ان سے عرض کی: ”یقیناً آپ نے ایک ایسا کام کیا ہے جسے ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے؟“ اس پر انہوں نے ارشاد فرمایا: ”میں نے نو برس تک رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس کا شرف حاصل کیا ہے اور آپ ﷺ بھی اسی طرح عمل فرمایا کرتے تھے۔“