المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ قتال أهل البغي باب: باغیوں سے قتال کا بیان۔
حدیث نمبر: 4396
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ بْنِ سِنَانٍ ، عَنِ الْكَوْثَرِ بْنِ حَكِيمٍ .... فَذَكَرَهُ بِلَفْظِ : قَالَ لِابْنِ أُمِّ عَبْدٍ : هَلْ تَعْلَمُ .... إِلَى آخِرِهِ ، وَزَادَ : وَلَا يُقْسَمُ فَيْئُهُمْ ، هَذَا حُكْمُ اللهِ فِيمَنْ بَغَى مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَهُمْ عِنْدَنَا الْخَوَارِجُ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو...“ (پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی) اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ: ”اور ان باغیوں کا مالِ فئے (جنگ کے بغیر حاصل ہونے والا مال) تقسیم نہیں کیا جائے گا، یہ اللہ تعالیٰ کا وہ فیصلہ ہے جو اس امت کے باغیوں کے متعلق ہے، اور ہمارے نزدیک اس سے مراد خوارج ہیں۔“
اس روایت کی سند میں عبدالمنعم بن ادریس اور کوثر بن حکیم موجود ہیں جو کہ ائمہ حدیث کے نزدیک سخت ضعیف اور ناقابلِ اعتبار راوی ہیں۔