المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ قتال أهل البغي باب: باغیوں سے قتال کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ النَّسَائِيُّ ، عَنْ كَوْثَرِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ تَدْرِي كَيْفَ حُكْمُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَنْ بَغَى مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ ؟ قَالَ : قُلْنَا : اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : لَا يُجْهَزُ عَلَى جَرِيحِهَا ، وَلَا يُقْتَلُ أَسِيرُهَا ، وَلَا يُتْبَعُ هَارِبُهَا .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ کرام سے) دریافت فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ اس امت کے ان لوگوں کے متعلق اللہ عزوجل کا کیا حکم ہے جو بغاوت و سرکشی کا راستہ اختیار کریں؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ان کے بارے میں حکمِ الہی یہ ہے کہ «لَا يُجْهَزُ عَلَى جَرِيحِهَا» ”ان کے زخمی کو (حتمی ضرب لگا کر) قتل نہیں کیا جائے گا“، «وَلَا يُقْتَلُ أَسِيرُهَا» ”ان کے قیدی کو موت کے گھاٹ نہیں اتارا جائے گا“ اور «وَلَا يُتْبَعُ هَارِبُهَا» ”ان کے (میدانِ جنگ سے) بھاگ جانے والے کا تعاقب نہیں کیا جائے گا۔““
اس روایت کو امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی کوثر بن حکیم سخت ضعیف اور متروک الحدیث ہے، لہٰذا یہ روایت سندی اعتبار سے انتہائی کمزور اور غیر مستند ہے۔