المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ قتال أهل البغي باب: باغیوں سے قتال کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سَهْلٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا لِي أَرَاكَ تَسْتَحِيلُ النَّاسَ اسْتِحَالَةَ الرَّجُلِ إِبِلَهُ ، أَبِعَهْدٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ شَيْئًا رَأَيْتَهُ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَاللهِ مَا كَذَبْتُ ، وَلَا كُذِّبْتُ ، وَلَا ضَلَلْتُ ، وَلَا ضُلَّ بِي ، بَلْ عَهْدٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى .سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علی بن ربیعہ نے انہیں منبر پر خطاب کرتے ہوئے سنا، اسی دوران ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ”اے امیر المؤمنین! کیا معاملہ ہے کہ میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اسی طرح (اپنی مرضی کے مطابق) ہانک رہے اور موڑ رہے ہیں جیسے کوئی شخص اپنے اونٹوں کو ہانکتا ہے؟ کیا یہ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے آپ کو دیا گیا کوئی خاص عہد ہے یا یہ آپ کی اپنی کوئی سوچ اور تدبیر ہے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! نہ میں نے کبھی جھوٹ بولا ہے اور نہ مجھے کبھی غلط خبر دی گئی ہے، نہ میں کبھی خود گمراہ ہوا اور نہ ہی مجھے کسی نے بہکایا ہے، بلکہ یہ نبی کریم ﷺ کی جانب سے ایک مؤکد عہد ہے، اور حقیقت تو یہی ہے کہ ﴿وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى﴾ [سورة طه: 61] (اور وہ شخص یقیناً نامراد ہوا جس نے جھوٹ گھڑا)۔“
امام ابویعلیٰ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ربیع بن سہل ضعیف ہے، تاہم اس روایت کے شواہد و متابعات دیگر کتبِ احادیث میں موجود ہیں۔