❮
❯
حدیث نمبر: 4394
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَنَا سَالِمٌ الْمُرَادِيُّ أَبُو الْعَلَاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : لَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْبَصْرَةَ فِي أَمْرِ طَلْحَةَ وَأَصْحَابِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، قَامَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْكَوَّاءِ ، وَابْنُ عُبَادٍ ، فَقَالَا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَخْبِرْنَا عَنْ مَسِيرِكَ هَذَا ، أَوَصِيَّةً أَوْصَاكَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَمْ عَهْدًا عَهِدَهُ عِنْدَكَ ، أَوْ رَأْيًا رَأَيْتَهُ حِينَ تَفَرَّقَتِ الْأُمَّةُ ، وَاخْتَلَفَتْ كَلِمَتُهَا ؟ فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا أَكُونُ أَوَّلَ كَاذِبٍ عَلَيْهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاللهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْتَ فَجْأَةٍ ، وَلَا قُتِلَ قَتْلًا ، وَلَقَدْ مَكَثَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ ، كُلَّ ذَلِكَ يَأْتِيهِ الْمُؤَذِّنُ ، فَيُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ ، فَيَقُولُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، وَلَقَدْ تَرَكَنِي وَهُوَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرَى مَكَانِي ، وَلَوْ عَهِدَ إِلَيَّ شَيْئًا لَقُمْتُ بِهِ ، حَتَّى عَارَضَتْ فِي ذَلِكَ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ ، فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ الْمُسْلِمُونَ فِي أَمْرِهِمْ ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَلَّى أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمْرَ دِينِهِمْ ، فَوَلَّوْهُ أَمْرَ دُنْيَاهُمْ ، فَبَايَعَهُ الْمُسْلِمُونَ ، وَبَايَعْتُهُ مَعَهُمْ ، فَكُنْتُ أَغْزُو إِذَا أَغْزَانِي وَآخُذُ إِذَا أَعْطَانِي ، وَكُنْتُ سَوْطًا بَيْنَ يَدَيْهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي إِقَامَةِ الْحُدُودِ ، فَلَوْ كَانَ مُحَابَاةً عِنْدَ حُضُورِ مَوْتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَجَعَلَهَا فِي وَلَدِهِ ، فَأَشَارَ بِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَلَمْ يَأْلُ ، فَبَايَعَهُ الْمُسْلِمُونَ ، وَبَايَعْتُهُ مَعَهُمْ ، وَكُنْتُ أَغْزُو إِذَا أَغْزَانِي وَآخُذُ إِذَا أَعْطَانِي ، وَكُنْتُ سَوْطًا بَيْنَ يَدَيْهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي إِقَامَةِ الْحُدُودِ ، فَلَوْ كَانَتْ مُحَابَاةً عِنْدَ حُضُورِ مَوْتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَجَعَلَهَا فِي وَلَدِهِ ، وَكَرِهَ أَنْ يَتَخَيَّرَ مِنْ مَعْشَرِ قُرَيْشٍ رَجُلًا ، فَيُوَلِّيهِ أَمْرَ الْأُمَّةِ ، فَلَا يَكُونُ فِيهِ إِسَاءَةٌ مِنْ بَعْدِهِ إِلَّا لَحِقَتْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قَبْرِهِ ، فَاخْتَارَ مِنَّا سِتَّةً . أَنَا فِيهِمْ ، لِنَخْتَارَ لِلْأُمَّةِ رَجُلًا ، فَلَمَّا اجْتَمَعْنَا وَثَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَوَهَبَ لَنَا نَصِيبَهُ مِنْهَا عَلَى أَنْ نُعْطِيَهُ مَوَاثِيقًا عَلَى أَنْ يَخْتَارَ مِنَ الْخَمْسَةِ رَجُلًا فَيُوَلِّيَهُ أَمْرَ الْأُمَّةِ ، فَأَعْطَيْنَاهُ مَوَاثِيقَنَا ، فَأَخَذَ بِيَدِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَايَعَهُ ، وَلَقَدْ عَرَضَ فِي نَفْسِي عِنْدَ ذَلِكَ ، فَلَمَّا نَظَرْتُ فِي أَمْرِي ، فَإِذَا عَهْدِي قَدْ سَبَقَ بَيْعَتِي ، فَبَايَعْتُ وَسَلَّمْتُ ، وَكُنْتُ أَغْزُو إِذَا أَغْزَانِي وَآخُذُ إِذَا أَعْطَانِي ، وَكُنْتُ سَوْطًا بَيْنَ يَدَيْهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي إِقَامَةِ الْحُدُودِ ، فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَظَرْتُ فِي أَمْرِي ، فَإِذَا الْمَوْثِقَةُ الَّتِي كَانَتْ فِي عُنُقِي لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَدِ انْجَلَتْ ، وَإِذَا الْعَهْدُ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ وَفَّيْتُ بِهِ ، وَأَنَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَيْسَ لِأَحَدٍ عِنْدِي دَعْوَى ، وَلَا طَلِبَةٌ ، فَوَثَبَ فِيهَا مَنْ لَيْسَ مِثْلِي ، ( يَعْنِي : مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ) لَا قَرَابَتُهُ قَرَابَتِي ، وَلَا عِلْمُهُ كَعِلْمِي ، وَلَا سَابِقَتُهُ كَسَابِقَتِي ، وَكُنْتُ أَحَقَّ بِهَا مِنْهُ ، قَالَا : صَدَقْتَ ، فَأَخْبِرْنَا عَنْ قِتَالِكَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ ، ( يَعْنِيَانِ : طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ) صَاحِبَاكَ فِي الْهِجْرَةِ ، وَصَاحِبَاكَ فِي بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ ، وَصَاحِبَاكَ فِي الْمَشُورَةِ ، فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : بَايَعَانِي بِالْمَدِينَةِ ، وَخَالَفَانِي بِالْبَصْرَةِ ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مِمَّنْ بَايَعَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَلَعَهُ لَقَاتَلْنَاهُ ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مِمَّنْ بَايَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَلَعَهُ لَقَاتَلْنَاهُ .
4394 \ 2 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ الْمُرَادِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَهُ سَوَاءً .
قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ طَرَفًا مِنْهُ مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ .
ترجمہ

امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ طلحہ اور ان کے ساتھیوں رضی اللہ عنہم کے معاملے میں بصرہ تشریف لائے تو عبداللہ بن کواء اور ابن عباد کھڑے ہوئے اور عرض کیا: ”اے امیر المؤمنین! ہمیں اپنے اس سفر اور اقدام کے بارے میں بتائیے، کیا یہ کوئی ایسی وصیت ہے جو رسول اللہ ﷺ نے آپ کو خاص طور پر فرمائی تھی، یا کوئی ایسا عہد ہے جو آپ سے لیا گیا تھا، یا پھر یہ آپ کی اپنی رائے اور اجتہاد ہے جو آپ نے اس وقت اختیار کیا جب امت میں انتشار پیدا ہوا اور اس کا کلمہ بکھر گیا؟“ اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں وہ پہلا شخص نہیں بنوں گا جو رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھے، اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ کی وفات اچانک نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی آپ کو قتل کیا گیا تھا، بلکہ آپ ﷺ اپنی بیماری میں کچھ عرصہ قیام پذیر رہے، اس دوران مؤذن آپ کے پاس آتا اور نماز کی اطلاع دیتا تو آپ ﷺ یہی فرماتے: ”ابوبکر کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“، حالانکہ آپ ﷺ میرا مقام و مرتبہ بھی دیکھ رہے تھے، اور اگر آپ ﷺ نے مجھے کسی معاملے کا عہد دیا ہوتا تو میں اسے ضرور قائم کرتا۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کی ایک زوجہ مطہرہ نے اس معاملے میں عرض بھی کیا کہ ”ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک نرم دل انسان ہیں، جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو (گریہ و زاری کی وجہ سے) لوگوں کو اپنی آواز نہیں سنا پائیں گے، کاش آپ عمر رضی اللہ عنہ کو حکم فرماتے کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم تو بالکل یوسف (علیہ السلام) والی عورتوں کی طرح ہو“۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ کی روح قبض کر لی گئی تو مسلمانوں نے اپنے معاملے پر غور کیا، تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ان کے دین کے معاملے (نماز) کا نگران بنایا تھا، چنانچہ انہوں نے انہیں اپنے دنیاوی معاملے (خلافت) کا بھی والی تسلیم کر لیا، پس مسلمانوں نے ان کی بیعت کی اور میں نے بھی ان کے ساتھ بیعت کر لی۔ جب وہ مجھے جہاد پر بھیجتے تو میں جاتا، جب وہ مجھے عطا فرماتے تو میں قبول کرتا، اور حدود قائم کرنے میں میں ان کے سامنے ایک کوڑے کی مانند (سخت معاون) ہوتا تھا۔ پھر جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا، تو اگر وہاں جانبداری کا کوئی شائبہ ہوتا تو وہ اسے اپنی اولاد میں رکھتے، مگر انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا اور کوئی کسر نہیں چھوڑی، پس مسلمانوں نے ان کی بیعت کی اور میں نے بھی ان کے ساتھ بیعت کی، میں ان کے حکم پر جہاد کرتا رہا، ان سے اپنا حصہ وصول کرتا رہا اور حدود کے نفاذ میں ان کا بازو بنا رہا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی وفات کے وقت قریش میں سے کسی ایک شخص کو نامزد کرنے کو ناپسند کیا کہ مبادا ان کے بعد ہونے والی کوئی برائی قبر میں ان کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنے، بلکہ انہوں نے ہم چھ افراد کا انتخاب کیا، جن میں میں بھی شامل تھا تاکہ ہم امت کے لیے ایک آدمی چن سکیں۔ جب ہم جمع ہوئے تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے اپنا حق اس شرط پر ہمیں دے دیا کہ ہم ان سے یہ عہد کریں کہ وہ ہم پانچ میں سے ایک آدمی چن کر اسے امت کا سربراہ بنا دیں، ہم نے انہیں پختہ عہد دے دیا تو انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام کر ان کی بیعت کر لی۔ اس وقت میرے دل میں تھوڑا تردد پیدا ہوا، لیکن جب میں نے اپنے معاملے پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ میرا (اطاعت کا) عہد میری بیعت پر سبقت لے گیا ہے، چنانچہ میں نے بیعت کر لی اور سرِ تسلیم خم کر دیا، اور میں ان کے دور میں بھی جہاد کرتا رہا، ان سے اپنے حقوق لیتا رہا اور نفاذِ حدود میں ان کا دست و بازو رہا۔ پھر جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو میں نے اپنے معاملے میں غور کیا کہ سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی بیعت کا جو قلادہ میری گردن میں تھا وہ ان کی وفات سے اتر چکا ہے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کیا گیا عہد میں پورا کر چکا ہوں، اور اب میں مسلمانوں میں سے ایک عام فرد ہوں جس پر کسی کا کوئی دعویٰ یا مطالبہ نہیں، مگر پھر اس معاملے میں وہ شخص کود پڑا جو میرے جیسا نہیں تھا (یعنی معاویہ رضی اللہ عنہ)، نہ ان کی قرابت مجھ جیسی تھی، نہ ان کا علم میرے علم جیسا تھا اور نہ ہی انہیں اسلام میں میری جیسی سبقت حاصل تھی، اور میں ان کے مقابلے میں اس منصب کا زیادہ حقدار تھا۔“ ان دونوں نے کہا: ”آپ نے سچ فرمایا، اب ہمیں ان دو آدمیوں (طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما) سے آپ کے قتال کے بارے میں بتائیے جو ہجرت میں بھی آپ کے ساتھی تھے، بیعتِ رضوان میں بھی شریک تھے اور مشاورت میں بھی آپ کے ہمراہ تھے؟“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ان دونوں نے مدینہ میں میری بیعت کی اور بصرہ میں میری مخالفت کی، اگر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے والوں میں سے کوئی ان کی بیعت توڑ دیتا تو ہم اس سے بھی قتال کرتے، اور اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے والوں میں سے کوئی ان کا عہد توڑ دیتا تو ہم اس سے بھی جنگ کرتے۔“
امام محمد بن عبید الطنافسی نے سالم المرادی سے، انہوں نے امام حسن بصری سے اس کے مثل روایت نقل کی ہے۔ میں (مصنف) کہتا ہوں: امام ابوداؤد اور امام نسائی نے اس کا کچھ حصہ امام حسن بصری کی روایت سے نقل کیا ہے جو انہوں نے قیس بن عباد سے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4394
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 704، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 4666، وأخرجه مسند أحمد برقم: 1287، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 4394 / 2، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 575»