المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ براءة علي مِنْ قتل عثمان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ سے برأت کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ ، عَنْ رُبَيْحٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ بَنِي أُمَيَّةَ يُقَاتِلُونَنِي ، يَزْعُمُونَ أَنِّي قَتَلْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَكَذَبُوا ، إِنَّمَا يُرِيدُونَ الْمُلْكَ ، وَلَوْ أَعْلَمُ أَنَّهُ يُذْهِبُ مَا فِي قُلُوبِهِمْ أَنِّي أَحْلِفُ لَهُمْ عِنْدَ الْمَقَامِ : وَاللهِ مَا قَتَلْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَلَا أَمَرْتُ بِقَتْلِهِ لَفَعَلْتُ ، وَلَكِنْ إِنَّمَا يُرِيدُونَ الْمُلْكَ ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِمَّنْ قَالَ اللهُ تَعَالَى : وَنَـزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ ... الْآيَةَ .عبداللہ بن ابی سفیان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک بنو امیہ مجھ سے محض اس لیے قتال کر رہے ہیں کیونکہ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ہے، حالانکہ انہوں نے صریحاً جھوٹ بولا ہے، وہ تو صرف اقتدار اور بادشاہت کے طلب گار ہیں، اگر مجھے اس بات کا یقین ہوتا کہ مقامِ ابراہیم کے پاس ان کے سامنے یہ حلف اٹھانے سے ان کے دلوں کی کدورت ختم ہو جائے گی کہ «وَاللهِ مَا قَتَلْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَلَا أَمَرْتُ بِقَتْلِهِ» ”اللہ کی قسم! میں نے نہ تو عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ہے اور نہ ہی ان کے قتل کا حکم دیا ہے“، تو میں ضرور ایسا کر گزرتا، لیکن اصل بات یہ ہے کہ وہ صرف حکومت چاہتے ہیں، اور میں اللہ تعالیٰ سے یہ قوی امید رکھتا ہوں کہ میں اور عثمان رضی اللہ عنہ ان مبارک ہستیوں میں سے ہوں گے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ﴾ [سورة الحجر: 47]۔“
اس روایت کی سند میں بعض راویوں پر کلام ہے، تاہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل سے برأت کا اظہار دیگر صحیح اور مستند روایات سے ثابت ہے۔