❮
❯
حدیث نمبر: 4392
قَالَ إِسْحَاقُ : ثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، حَدَّثَنِي كِنَانَةُ مَوْلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ أَنَّهُ شَهِدَ مَقْتَلَ عُثْمَانَ قَالَ : أَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً ، قَالَ : أَمَرَتْنَا صَفِيَّةُ أَنْ نُرَحِّلَ بَغْلَةً بِهَوْدَجٍ ، فَرَحَّلْنَاهَا ثُمَّ مَشَيْنَا حَوْلَهَا إِلَى الْبَابِ ، فَإِذَا الْأَشْتَرُ وَنَاسٌ مَعَهُ ، فَقَالَ لَهَا الْأَشْتَرُ : ارْجِعِي إِلَى بَيْتِكِ فَأَبَتْ ، فَرَفَعَ قَنَاةً مَعَهُ ، أَوْ رُمْحًا ، فَضَرَبَ عَجُزَ الْبَغْلَةِ ، فَثَبَّتَ الْبَغْلَةَ وَمَالَ الْهَوْدَجُ حَتَّى كَادَ أَنْ يَقَعَ ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ قَالَتْ : رُدُّونِي ، رُدُّونِي ، قَالَ : قَدْ خَرَجَ مِنَ الدَّارِ أَرْبَعَةُ نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، مَضْرُوبِينَ مَحْمُولِينَ ، كَانُوا يَدْرَؤُونَ عَنْ عُثْمَانَ ، فَذَكَرَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَابْنَ خَاطِبٍ وَمَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ ، قُلْتُ : فَهَلْ تَدَمَّى مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ دَمِهِ بِشَيْءٍ ؟ قَالَ : مَعَاذَ اللهِ ، دَخَلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : لَسْتُ بِصَاحِبِهِ وَكَلَّمَهُ بِكَلَامٍ ، فَخَرَجَ وَلَمْ يَدْرِ مِنْ دَمِهِ بِشَيْءٍ ، قُلْتُ : فَمَنْ قَتَلَهُ ؟ قَالَ : رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ يُقَالُ لَهُ : جَبَلَةُ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : أَنَا قَاتِلُ نَعْثَلٍ ، قُلْتُ : فَأَيْنَ عُثْمَانُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : فِي الدَّارِ .
ترجمہ

سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام کنانہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دلخراش واقعہ کے وقت وہاں موجود تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں اس وقت چودہ برس کا لڑکا تھا، انہوں نے کہا کہ ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں کجاوے والے خچر پر پالان کسنے کا حکم دیا، چنانچہ ہم نے سواری تیار کی اور پھر ہم ان کے ہمرکاب پیدل چلتے ہوئے (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے) مکان کے دروازے تک پہنچے تو وہاں مالک اشتر اور اس کے ساتھی موجود تھے، اشتر نے آپ سے کہا: ”اپنے گھر واپس چلی جائیں“، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اس پر اس نے اپنا نیزہ یا برچھی اٹھا کر خچر کی پشت پر ماری جس سے خچر بدک گیا اور کجاوا اس قدر جھک گیا کہ قریب تھا کہ سیدہ زمین پر گر جاتیں، جب انہوں نے یہ دیکھا تو فرمایا: ”مجھے واپس لے چلو، مجھے واپس لے چلو“۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس دوران قریش کے چار نوجوان گھر سے زخمی حالت میں اٹھا کر لائے گئے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا دفاع کر رہے تھے، ان میں سیدنا حسن بن علی، سیدنا عبداللہ بن زبیر، ابن خاطب اور مروان بن حکم رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ میں نے پوچھا: ”کیا محمد بن ابی بکر سیدنا عثمان کے خون سے ذرا برابر بھی آلودہ ہوئے تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: «مَعَاذَ اللهِ» ”اللہ کی پناہ! وہ ان کے پاس اندر گئے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”تم میرے قاتل نہیں ہو“ اور ان سے کچھ کلام کیا، پھر وہ باہر آ گئے اور ان کے جسم پر خون کا کوئی نشان تک نہ تھا۔“ میں نے دریافت کیا: ”پھر انہیں کس نے شہید کیا؟“ انہوں نے بتایا: ”مصر کا رہنے والا ایک شخص جسے جبلہ کہا جاتا تھا، وہ یہ نعرہ لگا رہا تھا کہ میں نے نعثل (باغیوں کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے توہین آمیز لفظ) کو قتل کیا ہے“۔ میں نے پوچھا: ”اس وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہاں تھے؟“ انہوں نے کہا: ”وہ گھر کے اندر ہی تشریف فرما تھے“۔
اس حدیث کو امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن درجے کی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4392
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»