المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ مقتل عثمان بن عفان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : قُلْتُ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّ مَعَكَ فِي الدَّارِ عُصْبَةً مُسْتَنْصَرَةً ، يَنْصُرُ اللهُ تَعَالَى بِأَقَلَّ مِنْهَا ، فَأْذَنْ لِي فَلْأُقَاتِلْ ، فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنْشُدُ اللهَ رَجُلًا أَهَرَاقَ فِيَّ دَمَهُ ، أَوْ قَالَ : أَهَرَاقَ فِيَّ دَمًا .سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے (ان کے گھر کے محاصرے کے دوران) عرض کیا: ”بے شک آپ کے ساتھ گھر میں ایک ایسی جماعت موجود ہے جو آپ کی نصرت و حمایت کے لیے تیار ہے، اور اللہ تبارک و تعالیٰ تو اس سے بھی کہیں کم تعداد کے ذریعے نصرت و کامیابی عطا فرما دیتا ہے، لہٰذا آپ مجھے اجازت مرحمت فرمائیں تاکہ میں (ان بلوائیوں سے) قتال کروں۔“ اس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اس شخص کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں جو میری خاطر اپنا خون بہائے“ یا (راوی کو شک ہے کہ) انہوں نے یہ الفاظ کہے: ”جو میری خاطر کوئی خون بہائے (یعنی میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے خون ریزی ہو)۔“
[تخريج: اس حدیث کی سند صحیح ہے، اسے امام احمد نے اپنی 'مسند' (رقم: 532) میں اور ابن ابی شیبہ نے 'المصنف' (رقم: 32103) میں روایت کیا ہے]۔