❮
❯
حدیث نمبر: 4391
حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : قُلْتُ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّ مَعَكَ فِي الدَّارِ عُصْبَةً مُسْتَنْصَرَةً ، يَنْصُرُ اللهُ تَعَالَى بِأَقَلَّ مِنْهَا ، فَأْذَنْ لِي فَلْأُقَاتِلْ ، فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنْشُدُ اللهَ رَجُلًا أَهَرَاقَ فِيَّ دَمَهُ ، أَوْ قَالَ : أَهَرَاقَ فِيَّ دَمًا .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے (ان کے گھر کے محاصرے کے دوران) عرض کیا: ”بے شک آپ کے ساتھ گھر میں ایک ایسی جماعت موجود ہے جو آپ کی نصرت و حمایت کے لیے تیار ہے، اور اللہ تبارک و تعالیٰ تو اس سے بھی کہیں کم تعداد کے ذریعے نصرت و کامیابی عطا فرما دیتا ہے، لہٰذا آپ مجھے اجازت مرحمت فرمائیں تاکہ میں (ان بلوائیوں سے) قتال کروں۔“ اس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اس شخص کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں جو میری خاطر اپنا خون بہائے“ یا (راوی کو شک ہے کہ) انہوں نے یہ الفاظ کہے: ”جو میری خاطر کوئی خون بہائے (یعنی میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے خون ریزی ہو)۔“
[تخريج: اس حدیث کی سند صحیح ہے، اسے امام احمد نے اپنی 'مسند' (رقم: 532) میں اور ابن ابی شیبہ نے 'المصنف' (رقم: 32103) میں روایت کیا ہے]۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4391
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 38238»