المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ مقتل عثمان بن عفان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ - هُوَ ابْنُ هَارُونَ - أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِينَ تَكَلَّمُوا فِي عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَتَخَاصَمُوا فِي الْمَسْجِدِ ، حَتَّى مَا أَرَى أَدِيمَ السَّمَاءِ ، وَإِنَّ إِنْسَانًا مِنْ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَارَ بِمُصْحَفٍ ، وَقَالَ : أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِيءٌ مِمَّنْ فَارَقَ دِينَهُ وَكَانُوا شِيَعًا : إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ .... الْآيَةَ .امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نے ان لوگوں کو دیکھا جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف نازیبا گفتگو کر رہے تھے اور مسجد میں اس قدر دست و گریبان اور جھگڑ رہے تھے کہ (کثرتِ ہجوم کی وجہ سے) مجھے آسمان کی وسعت بھی دکھائی نہیں دے رہی تھی، اسی دوران نبی کریم ﷺ کے حجرہ مبارک سے ایک شخص نے قرآنِ مجید کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پکارا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت محمد ﷺ اس شخص سے بالکل بری اور لاتعلق ہیں جس نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور گروہوں میں بٹ گیا؟“ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ﴾ [سورة الأنعام: 159] یعنی ”بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ در گروہ بن گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے“۔“
امام احمد بن منیع نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور یہ روایت فتنہ عثمان رضی اللہ عنہ کے دور کے احوال کی مستند عکاسی کرتی ہے۔