المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ مقتل عثمان بن عفان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4389
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ ، كَانَ عَلَى صَنْعَاءَ ، فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَ ، فَبَكَى بُكَاءً شَدِيدًا ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ : الْيَوْمَ انْتُزِعَتْ خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَارَتْ مُلْكًا وَجَبْرِيَّةً ، مَنْ غَلَبَ عَلَى شَيْءٍ أَكَلَهُ .ترجمہ
ابو قلابہ سے روایت ہے کہ قریش کے ایک شخص جنہیں ثمامہ کہا جاتا تھا اور وہ صنعاء کے حاکم تھے، بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو انہوں نے خطبہ دیا اور اس دوران وہ زار و قطار روئے، پھر جب ان کی حالت کچھ سنبھلی تو انہوں نے کہا: ”آج امتِ محمد ﷺ سے خلافتِ نبوت چھین لی گئی ہے اور اب یہ ملوکیت اور جبر و قہر میں بدل گئی ہے، (جس کا حال یہ ہے کہ) جو جس چیز پر غلبہ پا لے گا وہ اسے ہڑپ کر جائے گا۔“
اس اثر کو ابن ابی عمر نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔