المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ مقتل عثمان بن عفان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، ثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ الْعِجْلِيُّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَوْ مُجَالِدٍ ، عَنْ طُحْرُبٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : لَا أُقَاتِلُ بَعْدَ رُؤْيَا رَأَيْتُهَا ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى الْعَرْشِ ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَأَيْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَرَأَيْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَرَأَيْتُ دَمًا بَيْنَهُمْ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا الدَّمُ ؟ قِيلَ : دَمُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَطْلُبُ اللهَ تَعَالَى بِهِ .سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں اس خواب کے بعد جو میں نے دیکھا ہے، ہرگز قتال نہیں کروں گا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ آپ ﷺ اپنا دستِ مبارک عرشِ الٰہی پر رکھے ہوئے ہیں، اور میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنا ہاتھ نبی کریم ﷺ پر رکھا ہوا ہے، اور میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنا ہاتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رکھا ہوا ہے، اور میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنا ہاتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر رکھا ہوا ہے، اور میں نے ان کے درمیان خون دیکھا، تو میں نے پوچھا: ”یہ کیسا خون ہے؟“ تو جواب دیا گیا: ”یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا خون ہے، اللہ تعالیٰ جس کا (انصاف و قصاص کے لیے) مطالبہ کر رہا ہے۔“
یہ روایت مسند اسحاق بن راہویہ (460) اور المعجم الکبیر للطبرانی (2712) میں مروی ہے، اس کی سند میں جمیع بن عمیر کی وجہ سے ضعف موجود ہے۔