المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ مقتل عثمان بن عفان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْهُنَائِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فَضَالَةَ ، أَنَا الْحَضْرَمِيُّ ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ بْنِ رَضِيعٍ الْجَارُودِ قَالَ : كُنْتُ بِالْكُوفَةِ ، فَقَامَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا خَطِيبًا ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِي مَنَامِي عَجَبًا ! رَأَيْتُ الرَّبَّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَوْقَ عَرْشِهِ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ عِنْدَ قَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَكَانَ نَبْذَةً ، فَقَالَ : يَا رَبِّ ، سَلْ عِبَادَكَ فِيمَ قَتَلُونِي ؟ قَالَ : فَانْبَعَثَ مِنَ السَّمَاءِ مِيزَابَانِ مِنْ دَمٍ فِي الْأَرْضِ ، قَالَ : فَقِيلَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَلَا تَرَى مَا يُحَدِّثُ بِهِ الْحَسَنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ قَالَ رِضْوَانُ اللهِ تَعَالَى عَلَيْهِ : يُحَدِّثُ بِمَا رَأَى .ابومریم بن رضیع الجارود رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں کوفہ میں موجود تھا کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! گزشتہ رات میں نے اپنے خواب میں ایک عجیب معاملہ دیکھا ہے! میں نے رب تبارک و تعالیٰ کو اس کے عرش کے اوپر ملاحظہ کیا، پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے یہاں تک کہ آپ ﷺ عرش کے ستونوں میں سے ایک ستون کے پاس کھڑے ہو گئے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے اپنا ہاتھ رسول اللہ ﷺ کے کندھے پر رکھا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور انہوں نے اپنا ہاتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کندھے پر رکھا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو وہ (ان سب سے) ذرا فاصلے پر ایک طرف کھڑے تھے، پس انہوں نے عرض کی: «يَا رَبِّ، سَلْ عِبَادَكَ فِيمَ قَتَلُونِي؟» ”اے میرے رب! اپنے بندوں سے دریافت فرما کہ انہوں نے مجھے کس جرم میں قتل کیا؟“ راوی نے بیان کیا کہ پھر آسمان سے زمین کی طرف خون کے دو پرنالے بہنے لگے، راوی کہتے ہیں کہ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے (بطورِ اعتراض) کہا گیا کہ کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ حسن کیا بیان کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ”وہ وہی بیان کر رہا ہے جو اس نے (خواب میں) دیکھا ہے۔“
یہ روایت مسند ابی یعلیٰ (حدیث: 4411/4386) میں موجود ہے، اس کی سند میں ابن ابی فضالہ (مبارک بن فضالہ) کی وجہ سے کلام ہے، نیز خوابوں کی بنیاد پر عقائد یا شرعی احکام ثابت نہیں ہوتے بلکہ یہ محض مبشرات یا تنبیہات کے طور پر نقل کیے جاتے ہیں۔