المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ مقتل عثمان بن عفان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا عَفَّانُ ، ثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ قَالَ : نَامَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ الَّذِي قُتِلَ فِيهِ ، وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ قَالَ : لَوْلَا أَنْ يَقُولَ النَّاسُ : تَمَنَّى عُثْمَانُ ( رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ) أُمْنِيَةً ، لَحَدَّثْتُكُمْ حَدِيثًا ، قَالَ : قُلْنَا : حَدِّثْنَا أَصْلَحَكَ اللهُ ، فَلَسْنَا نَقُولُ كَمَا يَقُولُ النَّاسُ ، قَالَ ( رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ) : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِي هَذَا ، فَقَالَ : إِنَّكَ شَاهِدٌ مَعَنَا الْجُمُعَةَ .
4384 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، ثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ بِهِ .
4384 \ 3 - وَأَخْرَجَهُ الْحَاكِمُ .کثیر بن صلت سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس دن سو گئے جس دن انہیں شہید کیا گیا، اور وہ جمعہ کا دن تھا، جب وہ بیدار ہوئے تو فرمانے لگے: ”اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے کہ عثمان نے محض ایک آرزو یا خواب و خیال کا تذکرہ کیا ہے، تو میں تمہیں ایک حدیث ضرور سناتا۔“ ہم نے عرض کیا: ”اللہ آپ کے احوال درست فرمائے! آپ ہمیں وہ بات بتائیں، ہم وہ بات ہرگز نہیں کہیں گے جو لوگ کہتے ہیں۔“ انہوں نے فرمایا: ”میں نے ابھی اپنی اس نیند میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی ہے، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”بے شک تم آج ہمارے ساتھ جمعہ میں شریک ہو گے۔““
امام ابو یعلیٰ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، نیز امام بزار نے بھی محمد بن مثنیٰ، مغیرہ بن مسلمہ، وہیب، موسیٰ اور ابو علقمہ کے واسطے سے اسے نقل کیا ہے اور امام حاکم نے بھی اس کی تخریج کی ہے۔