المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ مقتل عثمان بن عفان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، ثَنَا ابْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ مُهَاجِرِ بْنِ حَبِيبٍ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَصْقَلَةَ قَالَا : بَعَثَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، تَرَى هَذِهِ الْكُوَّةَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَفَ مِنْهَا اللَّيْلَةَ ، فَقَالَ : يَا عُثْمَانُ ، أَحَصَرُوكَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَأَدْلَى لِي دَلْوًا شَرِبْتُ مِنْهُ ، وَإِنِّي أَجِدُ بَرْدَهُ عَلَى كَبِدِي ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ اللهَ تَعَالَى فَنَصَرَكَ عَلَيْهِمْ ، وَإِنْ شِئْتَ أَفْطَرْتَ عِنْدَنَا ، قَالَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَقُلْتُ لَهُ : مَا الَّذِي اخْتَرْتَ ؟ قَالَ : الْفِطْرَ عِنْدَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْصَرَفَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى مَنْزِلِهِ ، فَلَمَّا ارْتَفَعَ النَّهَارُ ، قَالَ لِابْنِهِ : اخْرُجْ ، فَانْظُرْ مَا صَنَعَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ هَذِهِ السَّاعَةَ حَيًّا ، فَانْصَرَفَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : قَدْ قُتِلَ الرَّجُلُ .مہاجر بن حبیب اور ابراہیم بن مصقلہ رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا تو انہوں نے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، جب وہ ان کے پاس آئے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”آپ اپنا سر اٹھائیں، کیا آپ کو یہ روشندان نظر آرہا ہے؟ بے شک رسول اللہ ﷺ نے آج رات اسی روشندان سے جھانک کر میری طرف دیکھا اور دریافت فرمایا: اے عثمان! کیا ان لوگوں نے تمہارا محاصرہ کر رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے میرے لیے پانی کا ایک ڈول نیچے لٹکایا جس سے میں نے سیر ہو کر پانی پیا، اور اب بھی میں اس کی ٹھنڈک اپنے جگر میں محسوس کر رہا ہوں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں اور وہ تمہیں ان پر نصرت عطا فرما دے، اور اگر تم چاہو تو ہمارے پاس آ کر روزہ افطار کر لو۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ آپ نے کس چیز کا انتخاب کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”میں نے آپ ﷺ کے پاس ہی افطار کرنے کو ترجیح دی۔“ اس کے بعد سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے گھر واپس تشریف لے گئے، پھر جب سورج بلند ہوا تو انہوں نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا: باہر جاؤ اور دیکھو کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟ کیونکہ اب ان کا زندہ رہنا ممکن نہیں لگتا، چنانچہ وہ واپس آئے اور بتایا کہ ان کو شہید کر دیا گیا ہے۔
[مستدرک حاکم: 4408، امام حاکم نے اسے صحیح الاسناد قرار دیا ہے]