المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ مقتل عثمان بن عفان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، ثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ مَحْصُورًا فِي الدَّارِ مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَرَمَوْا رَجُلًا مِنَّا فَقَتَلُوهُ ، فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ! طَابَ الضِّرَابُ ، قَتَلُوا مِنَّا رَجُلًا ، فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : عَزَمْتُ عَلَيْكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ لَمَا رَمَيْتَ بِسَيْفِكَ ، فَإِنَّمَا تُرَادُ نَفْسِي ، وَسَأَقِي الْمُسْلِمِينَ بِنَفْسِي ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَرَمَيْتُ بِسَيْفِي ، فَمَا أَدْرِي أَيْنَ هُوَ حَتَّى السَّاعَةِ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں (ایامِ فتنہ میں) سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ان کے گھر میں محصور تھا، اسی دوران باغیوں نے ہمارے ایک ساتھی پر تیر چلایا اور اسے شہید کر دیا، تو میں نے عرض کی: اے امیر المؤمنین! اب تو قتال کا وقت آ گیا ہے (یعنی اب ان سے لڑنا روا ہے)، انہوں نے ہمارا ایک آدمی قتل کر دیا ہے، اس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ! میں تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہوں کہ تم اپنی تلوار پھینک دو، کیونکہ ان کا اصل مقصود تو صرف میری جان لینا ہے اور میں اپنی ذات کو پیش کر کے مسلمانوں کے خون کی حفاظت کروں گا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (ان کے حکم پر) اپنی تلوار پھینک دی اور مجھے آج تک نہیں معلوم کہ وہ کہاں گئی۔“
اس حدیث کی سند میں خالد بن القاسم اور ابو معشر نجیح بن عبد الرحمن المدنی ضعیف ہیں، تاہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا اپنے دفاع میں صحابہ کو قتال سے منع کرنا دیگر معتبر و صحیح شواہد سے ثابت ہے۔