المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ مقتل عثمان بن عفان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، ثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : لَبِسَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا الدِّرْعَ يَوْمَ الدَّارِ دَارِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، مَرَّتَيْنِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : صَحِبْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكُنْتُ أَعْرِفُ لَهُ حَقَّ النُّبُوَّةِ ، وَحَقَّ الْوِلَايَةِ ، وَصَحِبْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَكُنْتُ أَعْرِفُ لَهُ حَقَّ الْوِلَايَةِ ، ثُمَّ صَحِبْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَكُنْتُ أَعْرِفُ لَهُ حَقَّ الْوِلَايَةِ ، وَحَقَّ الْوَالِدِ ، وَأَنَا أَعْرِفُ لَكَ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَقَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرًا يَا آلَ عُمَرَ ، اقْعُدْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي .نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یومِ دار (سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر کے محاصرے والے دن) دو مرتبہ زرہ پہنی اور ان کے پاس حاضر ہو کر عرض کیا: ”میں رسول اللہ ﷺ کی صحبت و رفاقت میں رہا، پس میں آپ ﷺ کے لیے منصبِ نبوت اور حقِ امارت و ولایت کو پہچانتا اور تسلیم کرتا تھا، پھر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی معیت میں رہا تو ان کے لیے حقِ ولایت کو تسلیم کرتا تھا، پھر میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی رفاقت پائی تو میں ان کے لیے حقِ ولایت اور بطور والد ان کے حق کو پہچانتا تھا، اور میں آپ کے لیے بھی ویسے ہی حقوق پہچانتا ہوں۔“ اس پر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرًا يَا آلَ عُمَرَ» ”اے آلِ عمر! اللہ تعالیٰ تمہیں بہترین جزا عطا فرمائے، تم اپنے گھر میں ہی مقیم رہو یہاں تک کہ میرا حکم تمہارے پاس پہنچ جائے۔“
اس حدیث کی سند میں حسن بن قتیبہ ضعیف راوی ہے، تاہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دفاع کے لیے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا نکلنا دیگر صحیح روایات سے ثابت ہے۔