❮
❯
حدیث نمبر: 4380
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا أَبُو الْمِقْدَامِ هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهُ ، فَدَخَلَ وَإِزَارُهُ مَحْلُولٌ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ادْنُ مِنِّي يَا عُثْمَانُ ، فَدَنَا مِنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : ادْنُ مِنِّي يَا عُثْمَانُ ، فَدَنَا مِنْهُ حَتَّى أَصَابَتْ رُكْبَتُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رُكْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَزَرَّرَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عُثْمَانُ ، إِنَّكَ تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَوْدَاجُكَ تَشْخَبُ دَمًا ، فَأَقُولُ : مَنْ فَعَلَ بِكَ هَذَا ؟ فَتُسَمِّي وَتَشْتَكِي ، بَيْنَ آمِرٍ وَمَاكِرٍ وَخَاذِلٍ ، فَبَيْنَمَا أَنْتَ كَذَلِكَ ، إِذْ تَسْمَعُ هَاتِفًا يَهْتِفُ مِنَ السَّمَاءِ : أَلَا إِنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي حُكْمِ أَعْدَائِهِ وَلِيٌّ فَكَيْفَ أَنْتَ يَا عُثْمَانُ عِنْدَ ذَلِكَ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ، ثَلَاثًا .
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے انہیں اجازت عطا فرمائی، وہ اندر داخل ہوئے تو ان کے لباس (تہبند) کے بندھن کھلے ہوئے تھے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے عثمان! میرے قریب آ جاؤ“، وہ قریب ہو گئے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عثمان! اور زیادہ قریب آ جاؤ“، یہاں تک کہ ان کے گھٹنے نبی کریم ﷺ کے مبارک گھٹنوں سے مس کرنے لگے، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے ان کے لباس کے بٹن خود بند فرما دیے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے عثمان! یقیناً تم قیامت کے دن اس حال میں پیش ہو گے کہ تمہاری رگوں سے خون کے فوارے ابل رہے ہوں گے، میں سوال کروں گا کہ تمہارے ساتھ یہ ظلم کس نے کیا؟ تو تم ان کے نام لے کر شکوہ کرو گے، ان میں کوئی اکسانے والا اور حکم دینے والا ہوگا، کوئی مکار و سازشی ہوگا اور کوئی بے وفائی کرتے ہوئے ساتھ چھوڑ جانے والا ہوگا۔ تم اسی حال میں ہو گے کہ اچانک آسمان سے ایک پکارنے والے کی صدا سنائی دے گی: آگاہ رہو! یقیناً عثمان اپنے دشمنوں کے (ظالمانہ) فیصلوں کے باوجود اللہ کا ولی اور مقرب بندہ ہے؛ اے عثمان! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا؟“ انہوں نے تین مرتبہ یہ کلمات کہے: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» ”اللہ کی مشیت اور اس کی توفیق کے بغیر نہ (برائی سے) بچنے کی ہمت ہے اور نہ (نیکی کرنے کی) طاقت“۔
یہ روایت مسند الحارث (بغية الباحث) میں موجود ہے، مگر اس کی سند میں داود بن المحبر اور ہشام بن زیاد جیسے راویوں کی موجودگی کے سبب یہ روایت استنادی طور پر ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4380
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»