المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ مقتل عثمان بن عفان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنِ ابْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ : إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَمْ تَزَلْ مُحِيطَةً بِمَدِينَتِكُمْ هَذِهِ مُنْذُ قَدِمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَوْمِ ، وَاللهِ لَئِنْ قَتَلْتُمُوهُ لَيَذْهَبُنَّ ثُمَّ لَا يَعُودُ إِلَيْكُمْ أَبَدًا ، وَإِنَّ السَّيْفَ لَمْ يَزَلْ مَغْمُودًا فِيكُمْ ، فَوَاللهِ لَئِنْ قَتَلْتُمُوهُ لَيَسُلَّنَّهُ اللهُ عَلَيْكُمْ ، ثُمَّ لَا يُغْمَدُ عَنْكُمْ أَبَدًا - أَوْ قَالَ : إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ - وَمَا قُتِلَ نَبِيٌّ إِلَّا قُتِلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفًا ، وَلَا قُتِلَ خَلِيفَةٌ إِلَّا قُتِلَ بِهِ خَمْسَةٌ وَثَلَاثُونَ أَلْفًا ، وَذَكَرَ أَنَّهُ قُتِلَ عَلَى دَمِ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا سَبْعُونَ أَلْفًا .سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”بیشک فرشتے تمہارے اس شہر (مدینہ منورہ) کا اس وقت سے مسلسل احاطہ کیے ہوئے ہیں جب سے رسول اللہ ﷺ یہاں تشریف لائے ہیں اور یہ سلسلہ آج کے دن تک برقرار ہے، اللہ کی قسم! اگر تم نے انہیں (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو) شہید کر دیا تو یہ فرشتے یہاں سے کوچ کر جائیں گے اور پھر کبھی تمہاری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے، اور یقیناً تلوار تمہارے درمیان اب تک نیام میں محفوظ رہی ہے، پس اللہ کی قسم! اگر تم نے انہیں قتل کر دیا تو اللہ تعالیٰ تمہارے خلاف تلوار سونت لے گا، پھر وہ تمہارے حق میں کبھی نیام میں نہیں ڈالی جائے گی - یا انہوں نے فرمایا: قیامت کے دن تک کے لیے - اور کوئی بھی نبی ایسا نہیں جسے قتل کیا گیا ہو مگر اس کے قصاص میں ستر ہزار لوگ مارے گئے، اور کوئی خلیفہ ایسا نہیں جسے قتل کیا گیا ہو مگر اس کے بدلے پینتیس ہزار لوگ قتل ہوئے، اور انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ سیدنا یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کے خون کے بدلے ستر ہزار افراد قتل کیے گئے تھے“۔
[تخریج: المستدرک للحاکم: 4374، وقال الحاکم: ھذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاہ، ووافقہ الذہبی]۔