المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ مقتل عثمان بن عفان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلُ مِصْرَ يَدْخُلُ عَلَى رُؤُوسِ قُرَيْشٍ ، فَيَقُولُ لَهُمْ : لَا تَقْتُلُوا هَذَا الرَّجُلَ ، يَعْنِي : عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَيَقُولُونَ : وَاللهِ مَا نُرِيدُ قَتْلَهُ ، فَيَخْرُجُ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى يَدَيَّ ، يَقُولُ : وَاللهِ لَيَقْتُلُنَّهُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ : لَا تَقْتُلُوهُ ، فَوَاللهِ لَيَمُوتَنَّ إِلَى أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، فَأَبَوْا ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ بَعْدَ أَيَّامٍ فَقَالَ لَهُمْ : لَا تَقْتُلُوهُ ، فَوَاللهِ لَيَمُوتَنَّ إِلَى خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ .سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مولیٰ کثیر بن افلح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ، اہل مصر کے مدینہ آنے سے قبل قریش کے بڑے سرداروں کے پاس جایا کرتے تھے اور ان سے فرماتے تھے: ”تم اس شخص یعنی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل نہ کرنا“۔ وہ جواب میں کہتے تھے: ”اللہ کی قسم! ہمارا انہیں قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے“۔ پھر جب وہ میرے ہاتھوں کا سہارا لیے ہوئے وہاں سے باہر تشریف لاتے تو فرماتے: ”اللہ کی قسم! یہ لوگ انہیں ضرور قتل کر دیں گے“۔ پھر انہوں نے ان لوگوں سے دوبارہ کہا: ”تم انہیں قتل نہ کرو، کیونکہ اللہ کی قسم! وہ چالیس دن کے اندر وفات پا جائیں گے“، مگر ان لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا۔ پھر کچھ دنوں کے بعد وہ دوبارہ ان کے سامنے آئے اور فرمایا: ”تم انہیں قتل نہ کرو، کیونکہ اللہ کی قسم! وہ پندرہ راتوں کے اندر وفات پا جائیں گے“۔
یہ سند حسن ہے۔