المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
ذِكْرِ فتوح العراق باب: عراق کی فتوحات کا تذکرہ۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : كَتَبَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى مِهْرَانَ وَرُسْتُمَ وَبِلَادِ فَارِسَ : مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ إِلَى مِهْرَانَ وَرُسْتُمَ : سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى ، أَمَّا بَعْدُ : فَإِنِّي أَعْرِضُ عَلَيْكُمَا الْإِسْلَامَ ، فَإِنْ أَقْرَرْتُمَا بِالْإِسْلَامِ فَلَكُمَا مَا لِلْإِسْلَامِ ، وَعَلَيْكُمَا مَا عَلَى الْإِسْلَامِ ، وَإِنْ أَبَيْتُمَا فَإِنِّي أَعْرِضُ عَلَيْكُمَا الْجِزْيَةَ ، فَإِنْ أَبَيْتُمَا فَإِنَّ عِنْدِي رِجَالًا يُحِبُّونَ الْقِتَالَ كَمَا تُحِبُّ فَارِسُ الْخَمْرَ .ابووائل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مہران، رستم اور بلادِ فارس کی جانب خط لکھا: ”خالد بن ولید کی جانب سے مہران اور رستم کے نام: سلامتی ہو اس پر جس نے ہدایت کی پیروی کی۔ امّا بعد! میں تم دونوں کے سامنے اسلام پیش کرتا ہوں، پس اگر تم دونوں اسلام کا اقرار کر لو تو تمہارے لیے وہی حقوق و مراعات ہوں گی جو مسلمانوں کے لیے ہیں اور تم پر وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو مسلمانوں پر ہیں، اور اگر تم نے انکار کیا تو میں تمہارے سامنے جزیہ (کی پیشکش) رکھتا ہوں، اور اگر تم نے اس سے بھی انکار کر دیا تو (یاد رکھو کہ) میرے پاس ایسے جری جوان موجود ہیں جو جنگ و قتال سے ویسی ہی محبت رکھتے ہیں جیسی اہل فارس شراب سے رکھتے ہیں۔“
[المطالب العالیہ: 4366، مسند اسحاق بن راہویہ: 1226، اس کی سند حسن ہے]