المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
ذِكْرِ فتوح العراق باب: عراق کی فتوحات کا تذکرہ۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ شَاوَرَ الْهُرْمُزَانَ فِي أَصْبَهَانَ وَفَارِسَ وَأَذْرَبِيجَانَ ، بِأَيِّهِمْ يَبْدَأُ بِهَا ؟ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ أَصْبَهَانَ الرَّأْسُ ، وَفَارِسَ وَأَذْرَبِيجَانَ الْجَنَاحَانِ ، فَإِنْ قَطَعْتَ أَحَدَ الْجَنَاحَيْنِ لَاذَ الرَّأْسُ بِالْجَنَاحِ الْآخَرِ ، وَإِنْ قَطَعْتَ الرَّأْسَ وَقَعَ الْجَنَاحَانِ ، فَابْدَأْ بِأَصْبَهَانَ . قَالَ : وَدَخَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا هُوَ بِالنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ يُصَلِّي ، فَانْتَظَرَهُ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي مُسْتَعْمِلُكَ ، فَقَالَ : أَمَّا جَابِيًا فَلَا ، وَلَكِنْ غَازِيًا ، قَالَ : فَإِنَّكَ غَازٍ ، قَالَ : فَسَرَّحَهُ وَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ أَنْ يَلْحَقُوا بِهِ ، وَفِيهِمُ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ، وَحُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو ، وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، وَالْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ ، وَعَمْرُو بْنُ مَعْدِ يَكْرِبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، قَالَ : فَأَتَاهُمُ النُّعْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَبَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ نَهَرٌ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، وَمَلِكُهُمْ ذُو الْجَنَاحَيْنِ ، فَاسْتَشَارَ أَصْحَابَهُ ، فَقَالَ : مَا تَرَوْنَ أَقْعُدُ لَهُمْ فِي هَيْئَةِ الْحَرْبِ ، أَمْ أَقْعُدُ لَهُمْ فِي هَيْئَةِ الْمُلْكِ وَبَهْجَتِهِ ؟ قَالُوا : لَا ، بَلِ اقْعُدْ لَهُمْ فِي هَيْئَةِ الْمُلْكِ وَبَهْجَتِهِ .سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے اصفہان، فارس اور آذربائیجان کے متعلق مشورہ کیا کہ وہ ان میں سے کس ملک سے (حملے کا) آغاز کریں؟ ہرمزان نے جواب دیا: ”اے امیر المومنین! بیشک اصفہان سر کی مانند ہے، جبکہ فارس اور آذربائیجان اس کے دو بازو ہیں، پس اگر آپ نے ایک بازو کاٹ دیا تو سر دوسرے بازو کی پناہ لے لے گا، لیکن اگر آپ نے سر ہی قلم کر دیا تو دونوں بازو خود بخود گر جائیں گے، لہٰذا آپ اصفہان سے ابتدا کیجیے۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے تو دیکھا کہ سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ نماز ادا کر رہے ہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے ان کا انتظار کیا یہاں تک کہ انہوں نے نماز مکمل کر لی، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تمہیں ذمہ داری سونپنا (امیر مقرر کرنا) چاہتا ہوں۔“ انہوں نے عرض کیا: ”اگر بطورِ جابی (ٹیکس و خراج وصول کرنے والا) ہے تو مجھے منظور نہیں، لیکن اگر بطورِ غازی (میدانِ جنگ کا سپہ سالار) ہے تو حاضر ہوں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بیشک تم غازی ہی ہو۔“ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں روانہ کر دیا اور اہل کوفہ کے نام پیغام لکھا کہ وہ ان کے لشکر میں شامل ہو جائیں، ان میں سیدنا زبیر بن عوام، سیدنا حذیفہ بن یمان، سیدنا عبداللہ بن عمرو، سیدنا مغیرہ بن شعبہ، سیدنا اشعث بن قیس اور سیدنا عمرو بن معدیکرب رضی اللہ عنہم اجمعین شامل تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ جب وہاں پہنچے تو ان کے اور دشمن کے درمیان ایک نہر حائل تھی، انہوں نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف (بطورِ سفیر) بھیجا، ان کا بادشاہ ”ذوالجناحین“ (دو بازوؤں والا) کہلاتا تھا، اس نے اپنے مشیروں سے مشورہ کیا اور پوچھا: ”تمہاری کیا رائے ہے، میں ان کے سامنے جنگی لباس و ہیئت میں بیٹھوں یا شاہی ٹھاٹھ باٹھ اور زیب و زینت کے ساتھ؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں، بلکہ آپ ان کے سامنے شاہانہ جاہ و جلال اور زینت و وقار کے ساتھ بیٹھیں۔“
[أخرجه الحاكم في المستدرک: 4365، وقال: هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه، ووافقه الذهبي]