المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتن— فتنوں کا بیان۔
بَابُ مبدأ الفتن وقصة استخلاف عثمان بن عفان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: فتنوں کے آغاز اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بیان۔
وَبِهِ قَالَ اللَّيْثُ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَنَّهُ يَعْنِي : عَبْدَ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، كَانَ كُلَّمَا دَعَا رَجُلًا مِنْهُمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ذَكَرَ مَنَاقِبَهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّكَ لَهَا لَأَهْلٌ ، فَإِنْ أَخْطَأَتْكَ فَمَنْ ؟ فَيَقُولُ : إِنْ أَخْطَأَتْنِي فَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .امام لیث بن سعد، اسامہ بن زید سے اور وہ ان (ارکانِ شوریٰ) میں سے ایک شخص کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ (خلافت کے انتخاب والی) اس رات ان (نامزد امیدواروں) میں سے جب بھی کسی شخص کو مشورے کے لیے بلاتے تو پہلے اس کے فضائل و مناقب کا تذکرہ کرتے، پھر ان سے فرماتے: ”یقیناً آپ اس منصبِ خلافت کے پوری طرح اہل ہیں، لیکن اگر یہ ذمہ داری آپ کو نہ ملے تو پھر آپ کے نزدیک کون ہے جو اس کا حقدار ہو؟“ تو وہ جواب میں کہتے: ”اگر یہ منصب مجھے نہ ملے تو پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔“
یہ روایت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی جلالتِ شان اور انتخابِ خلافت کے موقع پر ارکانِ شوریٰ کے باہمی اعتماد و ایثار پر دلالت کرتی ہے، جس کی اصل صحیح بخاری میں موجود ہے۔