المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتن— فتنوں کا بیان۔
بَابُ مبدأ الفتن وقصة استخلاف عثمان بن عفان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: فتنوں کے آغاز اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بیان۔
( 209 ) تَقَدَّمَ فِي مَنَاقِبِ عُمَرَ حَدِيثُ جَعْلِهِ الْأَمْرَ شُورَى فِي سِتَّةٍ .
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، ثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي فِي صَبِيحَتِهَا يَفْرُغُ النَّفَرُ الَّذِينَ اسْتَخْلَفَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ مِنَ الْخِلَافَةِ ، صَلَّيْتُ الْعِشَاءَ ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ إِلَى مَنْزِلِي فَنِمْتُ ، فَأَيْقَظَنِي مِنَ النَّوْمِ صَوْتُ خَالِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ ، يَا مِسْوَرُ ، قَالَ : فَخَرَجْتُ مُشْتَمِلًا بِثَوْبِي ، قَالَ : أَنِمْتَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَدْ نِمْتُ . قَالَ : خُذْ عَلَيْكَ ثَوْبَكَ ثُمَّ الْحَقْنِي إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَفَعَلْتُ . فَلَمَّا انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ قَالَ لِي : ادْعُ لِيَ الزُّبَيْرَ وَسَعْدًا أَوْ أَحَدَهُمَا ، فَانْطَلَقْتُ فَدَعَوْتُهُ ، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ بِهِ إِلَيْهِ قَالَ : اسْتَأْخِرْ عَنَّا قَدْرَ مَا لَا تَسْمَعُ كَلَامَنَا . قَالَ : فَفَعَلْتُ فَتَنَاجَيَا شَيْئًا يَسِيرًا ، ثُمَّ قَالَ : ادْعُ لِيَ الْآخَرَ ، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ بِهِ إِلَيْهِ قَالَ : اسْتَأْخِرْ عَنَّا قَدْرَ مَا لَا تَسْمَعُ كَلَامَنَا . قَالَ : فَتَنَاجَيَا شَيْئًا يَسِيرًا ، ثُمَّ نَادَى : يَا مِسْوَرُ ، اذْهَبْ فَادْعُ لِيَ عَلِيًّا ، وَذَلِكَ حِينَ ذَهَبَتْ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ . قَالَ : فَجِئْتُ بِعَلِيٍّ ، فَقَالَ : اسْتَأْخِرْ عَنَّا قَدْرَ مَا لَا تَسْمَعُ كَلَامَنَا . قَالَ : فَلَمْ يَزَالَا يَتَكَلَّمَانِ مِنَ الْعِشَاءِ حَتَّى كَانَ السَّحَرُ ، إِلَّا أَنَّنِي لَمْ أَسْمَعْ مِنْ فِيهِمَا مَا أَظُنُّنِي أَنَّهُمَا قَدْ أَقْبَلَا . فَلَمَّا كَانَ السَّحَرُ ، نَادَانِي وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَهُ ، فَقَالَ : اذْهَبْ فَادْعُ لِيَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : فَفَعَلْتُ . فَتَنَاجَيَا ، وَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ بِالصُّبْحِ ، قَالَ : فَتَفَرَّقُوا لِلْوُضُوءِ ، وَقَدْ عَلِمَ النَّاسُ أَنَّهَا صَبِيحَةُ الْخِلَافَةِ ، فَاجْتَمَعُوا لِلصُّبْحِ ، كَمَا يَجْتَمِعُونَ لِلْجُمُعَةِ ، فَأَمَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّفَرَ أَنْ يَجْلِسُوا بَيْنَ يَدَيِ الْمِنْبَرِ ، فَلَمَّا أَبْصَرَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا وَطَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى جَنْبِ الْمِنْبَرِ ، فَحَمِدَ اللهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، قَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِي كَانَ مِنْ وَفَاةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَاسْتِخْلَافِهِ إِيَّانَا أَيُّهَا النَّفَرُ ، وَرَضِيَ أَصْحَابِي أَنَّ ذَلِكَ إِلَيَّ ، فَأَخْتَارُ رَجُلًا مِنْهُمْ ، وَهَؤُلَاءِ هُمْ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَهُمْ رَجُلًا رَجُلًا ، فَقَالَ : أَيْ فُلَانُ ، عَلَيْكَ عَهْدُ اللهِ وَمِيثَاقُهُ لَتَسْمَعَنَّ وَلَتُطِيعَنَّ لِمَنْ وَلَّيْتُ وَلَتَرْضَيَنَّ وَلَتُسَلِّمَنَّ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، رَافِعًا صَوْتَهُ يُسْمِعُ النَّاسَ ، حَتَّى فَرَغَ مِنْهُمْ رَجُلًا رَجُلًا : عُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَالزُّبَيْرُ وَسَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ . قَالَ : أَمَّا طَلْحَةُ فَأَنَا حَمِيلٌ بِرِضَاهُ . ثُمَّ قَالَ : إِنِّي لَمْ أَزَلْ دَئِبًا مُنْذُ ثَلَاثٍ أَسْأَلُكُمْ عَنْ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ ، ثُمَّ سَأَلْتُهُمْ عَنْ أَنْفُسِهِمْ ، فَوَجَدْتُكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ وَإِيَّاهُمُ اجْتَمَعْتُمْ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قُمْ يَا عُثْمَانُ ، فَلَمْ يَقُلْ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَلَا الْأَنْصَارِ وَلَا وُفُودِ الْعَرَبِ وَلَا صَالِحِي النَّاسِ : إِنَّكَ لَمْ تَسْتَشِرْنَا ، وَلَمْ تَسْتَأْمِرْنَا ، فَرَضُوا وَسَلَّمُوا ، فَلَبِثُوا سِتَّ سِنِينَ لَا يَعِيبُونَ شَيْئًا . قَالَ : كَانَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ يُفَضِّلُونَهُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُونَ : الْعَدْلُ مِثْلُ عُمَرَ ، وَاللِّينُ أَلْيَنُ مِنْ عُمَرَ ، ثُمَّ حَدَثَ مَا حَدَثَ .سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ رات آئی جس کی صبح ان افراد کو خلافت کے معاملے سے فارغ ہونا تھا جنہیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خلیفہ کے انتخاب کے لیے نامزد کیا تھا، تو میں نے عشاء کی نماز پڑھی اور اپنے گھر جا کر سو گیا، پھر مجھے میرے ماموں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی آواز نے بیدار کیا، انہوں نے پکارا: ”اے مسور!“، میں اپنی چادر لپیٹ کر باہر نکلا تو انہوں نے پوچھا: ”کیا تم سو گئے تھے؟“، میں نے عرض کیا: ”جی ہاں، میں سو گیا تھا“، انہوں نے فرمایا: ”اپنے کپڑے درست کرو اور میرے ساتھ مسجد چلو“، چنانچہ میں ان کے ساتھ ہو لیا، جب ہم وہاں پہنچے تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”میرے پاس سیدنا زبیر اور سیدنا سعد (رضی اللہ عنہما) کو، یا ان میں سے کسی ایک کو بلا لاؤ“، میں گیا اور انہیں بلا لایا، جب میں انہیں لے کر ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”ہم سے اتنی دور ہو جاؤ کہ ہماری گفتگو نہ سن سکو“، میں پیچھے ہٹ گیا اور انہوں نے تھوڑی دیر سرگوشی کی، پھر انہوں نے فرمایا: ”دوسرے صاحب کو بھی بلا لاؤ“، جب میں انہیں لے کر آیا تو انہوں نے پھر وہی بات دہرائی کہ ”ہم سے اتنے فاصلے پر رہو کہ ہماری بات نہ سن سکو“، چنانچہ انہوں نے بھی تھوڑی دیر خفیہ گفتگو کی، پھر انہوں نے آواز دی: ”اے مسور! جاؤ اور میرے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلا لاؤ“، اور یہ وہ وقت تھا جب رات کی تاریکی گہری ہو چکی تھی، میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لے آیا، انہوں نے فرمایا: ”ہم سے اتنا پیچھے ہٹ جاؤ کہ ہماری باتیں نہ سن سکو“، چنانچہ وہ دونوں عشاء کے وقت سے سحر تک مسلسل گفتگو کرتے رہے، مگر میں نے ان کے منہ سے ایسی کوئی بات نہیں سنی جس سے مجھے یہ گمان ہوتا کہ وہ کسی (حتمی) فیصلے پر پہنچ گئے ہیں، جب سحر کا وقت ہوا تو انہوں نے مجھے پکارا جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس ہی موجود تھے، انہوں نے فرمایا: ”جاؤ اور میرے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا لاؤ“، چنانچہ میں انہیں بلا لایا، ان دونوں کے درمیان بھی سرگوشی ہوتی رہی یہاں تک کہ مؤذن نے صبح کی اذان دے دی، پھر وہ سب وضو کے لیے چلے گئے، لوگوں کو یہ علم ہو چکا تھا کہ یہ خلافت کے فیصلے کی صبح ہے، چنانچہ وہ فجر کی نماز کے لیے اس طرح جمع ہوئے جیسے جمعہ کے دن اکٹھے ہوتے ہیں، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان نامزد افراد کو حکم دیا کہ وہ منبر کے سامنے بیٹھ جائیں، جب خوب اجالا ہو گیا اور سورج طلوع ہوا تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ منبر کے پہلو میں کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی جیسی کہ اس کی شان کے لائق ہے، پھر فرمایا: ”اے لوگو! تم جانتے ہو کہ امیر المومنین کی وفات ہو چکی ہے اور انہوں نے ہمیں (چھ افراد کو) اپنا جانشین مقرر کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی، اور میرے ساتھیوں نے یہ معاملہ میرے سپرد کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے کہ میں ان میں سے ایک مردِ صالح کا انتخاب کروں، اور یہ سب تمہارے سامنے موجود ہیں“، پھر انہوں نے ایک ایک شخص کی طرف رخ کر کے پوچھا: ”اے فلاں! کیا تم پر اللہ کا عہد و میثاق ہے کہ جس کو میں والی (خلیفہ) مقرر کروں تم اس کی بات سنو گے اور اطاعت کرو گے اور اس پر راضی رہ کر سرِ تسلیم خم کرو گے؟“، ہر ایک نے بلند آواز سے ”جی ہاں“ کہا تاکہ لوگ سن لیں، یہاں تک کہ وہ سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا زبیر اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہم سب سے فارغ ہوئے، اور فرمایا: ”رہے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ، تو ان کی رضا مندی کا میں ضامن ہوں“، پھر انہوں نے فرمایا: ”میں تین دن سے مسلسل تگ و دو کر رہا ہوں اور تم لوگوں سے ان افراد کے بارے میں پوچھ رہا ہوں، پھر میں نے ان امیدواروں سے خود ان کے بارے میں بھی سوال کیا، تو اے لوگو! میں نے تمہیں اور ان حضرات کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت پر متفق پایا ہے، اے عثمان! کھڑے ہو جاؤ“، پس مہاجرین، انصار، عرب کے وفود اور نیک لوگوں میں سے کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ آپ نے ہم سے مشورہ نہیں کیا یا ہماری رائے نہیں لی، بلکہ سب راضی ہوئے اور اطاعت قبول کر لی، پھر وہ چھ سال تک اس حال میں رہے کہ لوگ ان کے کسی کام میں عیب نہیں نکالتے تھے، ان میں سے ایک گروہ تو انہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر بھی فضیلت دیتا تھا اور کہتے تھے کہ: ”عدل و انصاف میں تو یہ عمر کی مثل ہیں مگر نرمی میں عمر سے بھی زیادہ نرم ہیں“، پھر اس کے بعد وہ فتنے کے حالات پیش آئے جو پیش آنے تھے۔
اس حدیث کی تخریج امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں کی ہے اور یہ واقعہ خلافتِ راشدہ کے مستند ترین تاریخی و سیاسی شواہد میں سے ایک ہے۔